یوگا میں سے اوم برخاست !

حیدرآباد ۔ 21 اپریل ۔ ( سیاست نیوز)مرکزی حکومت یوگا کو ہندوستانی تہذیب کا حصہ بناتے ہوئے اسے عالمی سطح پر روشناس کروانے کی منصوبہ بندی کو تیز تر کرچکی ہے ۔ باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاع کے بموجب حکومت کی جانب سے یوگا کو لازمی قرار دیئے جانے کیلئے اقدامات کا آغاز ہوچکا ہے اور یوگا کو لازمی قرار دیئے جانے میں جو رکاوٹیں ہیں اُن میں سب سے اہم رکاوٹ یوگا کے درمیان ’’اوم‘‘ کا استعمال کیا جانا اس کی مذہبی رسم ہونے کے مترادف سمجھا جارہا ہے ۔ 21 جون کو عالمی یوم یوگا کے طورپر منائے جانے کے اقدامات کے سلسلے میں بتایا جاتا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی نے یوگا سے ’’اوم ‘‘ کو حذف کرتے ہوئے اُسے تمام طبقات و مذاہب کے ماننے والوں کیلئے قابل قبول بنانے کی تجویز پیش کی ہے

جس پر اعلیٰ سرکاری عہدیدار عمل آوری کو یقینی بنانے میں مصروف ہیں۔ محکمہ آیوش کی جانب سے 33 منٹ کے مشترکہ یوگا پروگرام کی سی ڈی کی تیاری کا عمل بھی جاری ہے جس میں ’’اوم ‘‘ لفظ کو حذف کرتے ہوئے تیار کیا جارہاہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ 21 جون کو ہونے والی تقاریب میں یوگا کو لازمی قرار دیئے جانے کے احکام جاری کئے جاسکتے ہیں اور اس کو قابل عمل بنانے کیلئے یوگا سے ’’اوم ‘‘ کے علاوہ بعض دیگر ایسے الفاظ جو ہندو مذہبی شناخت کے حامل تصور کئے جاتے ہیں اُنھیں حذف کرتے ہوئے اعتراض کا موقع ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے

لیکن سرکاری طورپر کی جارہی ان کوششوں کو سیاسی جماعتوں کی تائید حاصل ہونا ممکن نظر نہیں آرہا ہے۔ اس معاملے پر بھی حکومت اعلیٰ عہدیداروں کے ذریعہ خصوصی طورپر منصوبہ بندی کررہی ہے ۔ ایک اعلیٰ سرکاری عہدیدار کے بموجب حکومت کی جانب سے کئے جانے والے یہ تمام اقدامات یوگا کو عالمی سطح پر روشناس کرواتے ہوئے اس پر موجود مذہب کی چھاپ کو دور کرنے کی کوشش کے علاوہ یوگا کے ہر شخص کیلئے ہونے کی دلیل پیش کرنا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت کی جانب سے کئے جانے والے ان اقدامات کے منظرعام پر آنے کے بعد مزید تنازعات پیدا ہوسکتے ہیں چونکہ ہندوستان میں موجود دوسری بڑی اکثریت کی جانب سے یوگا کے لزوم کو مسترد کیاجاچکا ہے اور اس طرح کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے حکومت نے ہندومذہب کے علامتی الفاظ کویوگا سے حذف کرنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن جب یہ فیصلہ منظرعام پر آئے گا اور 33 منٹ کی مشترکہ یوگا سی ڈی منظرعام پر آئے گی تو اُس وقت حکومت کو یوگا گرو اور ہندو مذہبی تنظیموں کی بھی مخالفت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔