یوکرین کی انسداد دہشت گردی کارروائی کا آغاز

ڈونسک۔13اپریل ( سیاست ڈاٹ کام ) یوکرین نے آج ملک کے مشرقی قصبہ سلاویانسک میں مخالف دہشت گردی کارروائی کا آغازک ردیا ‘ جہاں پر روس حامی بندوق برداروں نے پولیس اور فوج کی عمارتوں پر قبضہ کرلیا ہے ۔ وزیر داخلہ یوکرین آرسن اواکوف نے کہا کہ فوج کے تمام شعبوں کے سپاہی کارروائی میں شریک ہیں ۔ کل اواکوف نے عسکریت پسندوں کی کارروائی پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ’’روس کی جارحیت کا مظاہرہ ‘‘ ہے۔ کیونکہ زبردست مسلح علحدگی پسندوں نے ملک گیر سطح پر پورے مشرقی علاقہ میںپولیس ہیڈکوارٹرس پر سلسلہ وار کئی حملے کئے تھے۔ اس جارحانہ کارروائی کا اہتمام نامعلوم فوجی وردی میں ملوث افراد نے کیا تھا ۔ مارچ میں روس نے کریمیا کو ملحق کرلیا ہے جس کی وجہ سے یہ خوف پیدا ہوگیا ہے ک پڑوسی ملک یوکرین پر بھی مداخلت کے بہانے قبضہ کرلے گا ۔ کیونکہ یوکرین میں بے چینی پھیلی ہوئی ہے ۔

یوکرین کی مشرقی سرحد پر 40ہزار روسی سپاہی تعینات ہیں ۔ جب کہ یوکرین میں نئی مغرب حامی حکومت پُرتشدد احتجاجی مظاہروںکی تائید سے جو روس حامی صدر وکٹر یانوکووچ کے خلاف کئے گئے تھے ‘برسراقتدار آچکی ہے ۔ روس نے کل انتباہ دیا تھا کہ عسکریت پسندوں کے خلاف طاقت کے استعمال کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ عسکریت پسندوں کے مطالبہ روس میں شرکت کے بجائے عظیم تر خودمختاری کے ہیں ۔ یوکرین کی صیانتی کونسل کا کل دیر گئے اجلاس منعقد ہواجس میں ملک کے مشرقی علاقہ میںجاری بحران پر تین گھنٹے سے زیادہ دیر تک مظاہرے جاری رہیں لیکن اجلاس کے بعد کسی فیصلے کا اعلان نہیں کیا گیا ۔ امریکہ اور دیگر مغربی ممالک صدر روس ولاد میرپوٹین کوپہلے ہی انتباہ دے چکے ہیں کہ یوکرین پر قبضہ کی کسی بھی کوشش کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔