جنیوا 18اپریل (سیاست ڈاٹ کام ) وزیر خارجہ روس سرجی لاؤ روف نے آج یوکرین کے ساتھ ایک معاہدہ طئے ہونے کا اعلان کیا۔ امریکہ اور یوروپی یونین بھی معاہدہ کے فریق ہیں۔ یوکرین میں خطرناک حد تک کشیدگی پیدا ہوگئی تھی۔وزیر خارجہ روس نے جنیوا میں آدھے دن تک مذاکرات کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے دستاویز کی منظوری دی ہے ۔ جنیوا اعلامیہ مورخہ 17 اپریل کے تحت ہم نے اتفاق کیا ہے کہ فوری طور پر کشیدگی دور کرنے ابتدائی اقدامات کئے جائیں گے ۔ تمام غیر قانونی مسلح گروپس کو غیر مسلح کردیا جائے گا اور غیر قانونی طور پر زیر قبضہ عمارتیں اُن کے جائز مالکوں کو واپس کردی جائیں گی۔
انہو ںنے کہا کہ یہ معاہدہ وزیر خارجہ امریکہ جان کیری ،وزیر خارجہ یوکرین اینڈری ڈیش چسٹسیا اور یوروپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کتھرین اسٹرین کے درمیان طئے پایا ہے ۔ انہو ںنے تفصیلات کا انکشاف نہیں کیا لیکن امکان ہے کہ اعلامیہ میں روس حامی علحدہ پسندوں کا تذکرہ بھی شامل ہوگا جنہوں نے حالیہ دنوں میں جنوب مشرقی یوکرین میں تباہی پھیلائی تھی۔ کئی سرکاری عمارتوں پر کئی شہروں اور قصبوں میں قبضہ کرلیا گیا تھا جس کی وجہ سے ملک خطرناک حد تک غیر مستحکم ہوگیا تھا ۔ مغربی ممالک جنیوا مذاکرات میں اس امید کے ساتھ شریک ہوئے تھے ۔ روس کو ان نیم فوجی جنگجوؤں کو واپس طلب کرنے پر امادہ کیا جائے گا حالانکہ روس نے ہمیشہ ان کے ساتھ روابط کی تردید کی ہے ۔
لاؤ روف نے کہا کہ روس کو یوکرین میں فوج روانہ کرنے کی کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ دریں اثناء وزیر خارجہ امریکہ جان کیری نے روس کو انتباہ دیا کہ اگر یوکرین میں کشیدگی کم نہ کی جائے تو روس پر مزید تحدیدات عائد کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ معاہدہ پر پیشرفت دیکھنا چاہتا ہے اگر کوئی پیشرفت نہ ہوتو روس کو مزید تحدیدات کیلئے تیار رہنا چاہئے۔واشنگٹن سے موصولہ اطلاع کے بموجب صدر امریکہ بارک اوباما نے جنیوا میں طئے شدہ معاہدہ کے بارے میں رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس معاہدہ سے پر امید ہیں لیکن مشکوک بھی ہیں کہ یوکرین میں کشیدگی دور کرنے کے سلسلہ میں روس سنجیدہ ہے ۔
اوباما نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جنیوا میں امریکہ ،روس، یوکرین اور یوروپی یونین کی چار فریقی بات چیت کے نتیجہ میں کشیدگی دور کرنے کیلئے ایک معاہدہ طئے پایا ہے جس سے وہ پر امید ہیں لیکن روسی عزائم کے بارے میں شکوک و شبہات کا بھی شکار ہیں۔ معاہدہ میں عام معافی کا کوئی اعلان نہیں کیاگیا ہے جو ہتھیار ڈال دینے والوں کے بارے میں ہوں ۔ پیرس سے موصولہ اطلاع کے بموجب صدر فرانس فرینکوئی اولاند نے ٹیلی فون پر چانسلر جرمنی انجیلا میرکیل اور یوروپی کونسل کے صدر ہرمن وان رومپئی سے یوکرین کی صورتحال پر بات چیت کی۔ بات چیت کے دوران یوروپی قائدین نے امید ظاہر کی کہ چار فریقی بات چیت سے یوکرین میںکشیدگی دور ہونے کی توقع ہے ۔ سرکاری خبر رساں ادارہ ژن ہوا کے بموجب انہوں نے قریبی تعاون برقرار رکھنے سے اتفاق کرلیا ہے ۔