یوکرین میں خانہ جنگی کا صدر روس پوٹین کا انتباہ

ازیوم ؍ سلاویانسک ؍ واشنگٹن 16 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) صدر روس ولادیمیر پوٹین نے انتباہ دیا کہ یوکرین خانہ جنگی کے دہانے پر ہے۔ جبکہ حکومت یوکرین نے اپنی فوج روس حامی علیحدگی پسندوں کے خلاف کارروائی کے لئے ملک کے مشرقی علاقہ میں روانہ کردی۔ ولادیمیر پوٹین کا یہ تبصرہ ملک میں تنازعہ کی شدت ظاہر کرتا ہے۔ درحقیقت ملک خانہ جنگی کے دہانے پر ہے۔ صدر روس نے ٹیلیفون پر چانسلر جرمنی انجیلا مرکل سے بات چیت کے دوران منصوبہ بند 4 فریقی بات چیت کی پرزور تائید کی جو یوکرین کے موضوع پر آج روس کے اعلیٰ سطحی سفارت کاروں، یوروپی یونین اور امریکی سفارت کاروں کے علاوہ یوکرین کے نمائندوں کے درمیان ہورہی ہے۔ یوکرین نے ملک کے مشرقی شہر میں علیحدگی پسندوں کی جنھیں روس کی تائید حاصل ہے، کچل دینے کیلئے اپنے دبابے، دھماکو صورتحال والے علاقہ میں روانہ کردیئے ہیں۔

اِس کی روس کی جانب سے شدت سے مذمت کی گئی ہے جبکہ اوباما انتظامیہ نے اِس کارروائی کی پرزور تائید کی ہے۔ جنرل واسل کروٹوف نے اخباری نمائندوں کے ایک گروپ سے بات چیت کے دوران کہاکہ اچانک دبابوں کی نقل و حرکت کا پتہ چلانا چاہئے۔ اُنھیں انتباہ دیا جانا چاہئے کہ اگر وہ اپنے ہتھیار نہ ڈال دیں تو اُنھیں تباہ کردیا جائے گا۔ جنرل کروٹوف یوکرین کی فوج کے سربراہ ہیں۔ اُنھوں نے پرزور انداز میں کہاکہ عسکریت پسندوں کو سینکڑوں فوجیوں کی تائید حاصل ہورہی ہے جو روسی فوج اور محکمہ سراغ رسانی کے ارکان عملہ ہیں۔ اُنھیں سلاویانسک اور اطراف و اکناف کے دیہاتوں کو روانہ کیا گیا ہے۔ معاشی اعتبار سے انحطاط کا شکار صنعتی شہر جس کی آبادی ایک لاکھ ہے، علیحدگی پسند بندوق برداروں کے قبضہ میں آگیا ہے۔ یوکرین کے فوجی ہیلی کاپٹر بھی استعمال کررہے ہیں۔

سلاویانسک کے جنوب میں وزارت داخلہ نے کہاکہ کسی خونریزی کے بغیر اِس علاقہ کو آزاد کروالیا گیا ہے تاہم روس حامی کارکن اولیگ اسانکا نے کہاکہ فوج نے فائرنگ شروع کردی تھی۔ جس سے دو افراد زخمی ہوگئے۔ حکومت روس کے بیان میں یوکرین کی ملک کے مشرقی علاقہ میں فوجی کارروائی کو غیر دستوری قرار دیا گیا ہے۔ کیونکہ پرامن احتجاجی مظاہرین کے خلاف طاقت استعمال کی جارہی ہے۔ کیف نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ صدر روس ولادیمیر پوٹین نے مشرقی یوکرین میں شورش کو ہوا دی ہے تاکہ اقوام متحدہ کے معتمد عمومی بان کی مون سے کہہ سکیں کہ روس کو اقوام متحدہ اور بین الاقوامی برادری کی جانب سے اِس غیر دستوری کارروائی کی واضح مذمت کی توقع ہے۔