لکھنو ۔16 جون ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) اترپردیش کے سابق چیف سکریٹری جاوید عثمانی آئی اے ایس کو دو ہفتہ کے بعد ہی ریاستی حکومت نے انتظار میں رکھا ہے اور کوئی نیا عہدہ نہیں دیا ہے۔ یاد رہے کہ چیف منسٹر اکھلیش یادو نے بدایوں میں دو کمسن لڑکیوں کی اجتماعی آبروریزی کے معاملے میں سخت موقف اختیار کرتے ہوئے ریاست کے چیف سکریٹری جاوید عثمانی کو 30 مئی کو ہٹادیا تھا ان کی جگہ آلوک رنجن آئی اے ایس کو چیف سکریٹری تو بنادیا لیکن جاوید عثمانی کو ابھی تک نئی تعیناتی نہیں دی ہے ۔ جاوید عثمانی سے وزیراعلیٰ اکھلیش یادو اسی بنا پر سخت ناراض ہوگئے ہیں کہ جاوید عثمانی نے انھیں بہت سے اہم معاملات میں ان کو صحیح صورتحال سے واقف نہیں کرایا نہ ہی ریاستی حکومت کی فلاحی اسکیموں سے عوام کو واقف کرانے کی مثبت کوشش کی ، نتیجہ میں لوک سبھا الیکشن میں حکمراں ایس پی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔