حیدرآباد ۔ 12 نومبر (سیاست نیوز) حکومت کی جانب سے یونیورسٹیز کو فنڈس کی اجرائی کے معاملہ میں اختیار کردہ رویہ کے خلاف جوائنٹ ایکشن کمیٹی آف ٹیچنگ اینڈ نان ٹیچنگ اسٹاف اسوسی ایشن آف تلنگانہ یونیورسٹیز کی جانب سے تلنگانہ کی 11 یونیورسٹیز میں 13 نومبر کو مہا دھرنا منعقد کیا جائے گا۔ اسوسی ایشن کے ذمہ داران نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ حکومت یونیورسٹیز کو بلاک گرانٹ کی اجرائی میں کوتاہی کا مظاہرہ کررہی ہے جس کی وجہ سے یونیورسٹی اسٹاف کی تنخواہوں کی اجرائی میں بڑے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔ پروفیسر بی ستیہ نارائنا کے علاوہ مسٹر کے منوہر نے آج جاری کردہ ایک پریس نوٹ میں بتایا کہ حکومت کو درکار بجٹ کی عدم اجرائی کے سبب یونیورسٹیز ملازمین کئی مشکلات کا شکار بنے ہوئے ہیں ان کے مسائل میں ہورہے اضافہ کو پیش نظر رکھتے ہوئے ٹیچنگ اور نان ٹیچنگ اسٹاف کی تنظیموں نے فیصلہ کیا ہیکہ وہ ایک روزہ مہا دھرنا منعقد کرتے ہوئے حکومت کے رویہ کے خلاف احتجاج کریں گے۔ جامعہ عثمانیہ میں آرٹس کلب کالج کے روبرو دھرنا منعقد کیا جائے گا۔ جس میں اساتذہ کے علاوہ انتظامی امور سے تعلق رکھنے والے ملازمین بھی شرکت کریں گے۔ تنظیموں کے مطابق عثمانیہ یونیورسٹی کو 331.55 کرؤڑ درکار ہیں جبکہ حکومت نے سال 2014-15 میں صرف 170.12 کروڑ مختص کئے ہیں۔ اسی طرح کاکتیہ یونیورسٹی ، تلنگانہ ، ایم جی ، ساتا واہنا اور پالمور یونیورسٹیز کی بھی یہی صورتحال ہے ۔ حکومت کے اس طرز عمل سے نہ صرف برسرخدمت ملازمین کو دشواریوں کا سامنا کرنا پڑر ہا ہے بلکہ وظیفہ یاب ملازمین بھی مسائل کا شکار بنے ہوئے ہیں۔ یونیورسٹی ملازمین نے حکومت کی جانب سے ہیلت کارڈ کی اسکیم پر بھی موثر عمل آوری نہ ہونے کے خلاف جدوجہد کا فیصلہ کیا ہے اور کل کے مہادھرنا پروگرام میں بھی اس موضوع کو شامل رکھا جائے گا۔