این آئی ٹی ورنگل کی ڈائمنڈ جوبلی تقریب۔ وینکیا نائیڈو کا خطاب
حیدرآباد 8 اکٹوبر ( سیاست ڈاٹ کام ) نائب صدر جمہوریہ مسٹر ایم وینکیا نائیڈو نے آج کہا کہ یونیورسٹی کیمپسوں میں بیف فیسٹول اور بوسہ محبت احتجاج غیر صحتمندانہ رجحان ہیں ۔ انہوں نے اعلی تعلیمی اداروں کی طلبا برادری میں ذات پات ‘ مذہب ‘ غذائی عادات و کلچر پر بڑھتی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ انہوں نے این آئی ٹی ورنگل کی ایک سال طویل ڈائمنڈ جوبلی تقاریب کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ افسوس کی بات یہ ہے کہ طلبا میں ذات پات اور مذہب کے نام پر کچھ یونیورسٹیز اور دیگر تعلیمی اداروں میں اختلافات پیدا ہوگئے ہیں۔ کچھ جامعات میں بیف فیسٹول منعقد کرنے پر تنازعات کا حوالہ دیتے ہوئے نائب صدر نے کہا کہ کچھ گروپس کی جانب سے دوسروں پر اپنی غذائی عادات مسلط کرنا درست نہیں ہے ۔ اگر وہ کوئی مخصوص غذا کھانا چاہتے ہیںاور اس پر خوشی کا اظہار کرنا چاہتے ہیں تو وہ الگ سے ایسا کرسکتے ہیں۔ انہیں یہ کام کیمپسوں میں عوامی مسئلہ بناتے ہوئے نہیں کرنا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ ایک اور تنازعہ بوسہ محبت احتجاج کا ہے جو طلبا اور نوجوان کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی ایسا کرنا چاہتا ہے تو وہ اپنے کمروں میں کرسکتا ہے ۔ عوام میں نہیں۔ یہ ہمارا کلچر نہیں ہے ۔ انہوں نے سماج میں بڑھتی ہوئی عدم رواداری پر تشویش ظاہر کی اور کہا کہ یہ افسوس کی بات ہے کہ لوگ ذات پات اور مذہب کے نام پر لڑ رہے ہیں۔ ملک میں مذہبی اور ذات پات کی عدم رواداری کیلئے کوئی جگہ نہیں ہے ۔ مذہب شخصی اور طرز زندگی ہے ۔ ہمیں دوسروں کے مذہب اور کلچر کیلئے باہمی احترام کے ساتھ رہنے کی ضرورت ہے ۔