قافلۂ حجاز میں ایک حسینؓ بھی نہیں
گرچہ ہے تابدار ابھی گیسوئے دجلہ و فرات
یوم عاشورہ اور عالم اسلام
یوم عاشورہ 10 محرم کا دن کرب و بلا کا دن ہے۔ کربلا کے مظلوم شہدا کے نوحے رہتی دنیا تک دہرائے جاتے رہیں گے۔ تاریخ اسلام کا وہ کربناک دن جس نے صحرا کو آبدیدہ اور نینوا کو کربلا کردیا تھا۔ حضرت امام حسین ؓ نے اسے منارۂ نور بنادیا ہے۔ کربلا کا واقعہ شام غریباں نہیں نالۂ صبح گاہی ہے۔ سارے عالم اسلام کے لئے کربلا کا واقعہ ایک درس ہے۔ مظلومیت کے خلاف آواز بلند کرنے ڈٹ کر مقابلہ کرنے اور اپنی جانوں کو قربانی دے کر اسلام کو سربلند رکھنے کا ایک عظیم الشان پیغام ہے۔ آج عالم اسلام کو جن حالات کا سامنا ہے ایسے میں واقعہ کربلا ان کیلئے ایک روشنی کا منارۂ اگر مسلمانوں نے مظلومیت کے خلاف آواز اٹھانے کی ہمت دکھائی تو پھر دشمنان اسلام کو شدید ناکامی ہوگی۔ افسوس اس بات کا ہیکہ عالم اسلام واقعہ کربلا کو اور اسلامی تاریخ کے اس اہم واقعہ پر عدم توجہی کا شکار ہوکر مظلومیت ناانصافی، حق تلفیوں کو برداشت کررہا ہے۔ آج عالم اسلام کو ایک بار پھر حضرت امام حسین ؓ کی ضرورت ہے کیونکہ باطل حربے ابھی ختم نہیں ہوئے بلکہ ان باطل طاقتوں نے مختلف بہروپ دھار لئے ہیں۔ مشرق وسطیٰ، مصر، لیبیا، شام، عراق، پاکستان، افغانستان، تیونس، ترکی، لبنان الغرض عالم اسلام کے ہر حصہ میں باطل طاقتوں نے مسلمانوں کو ان کی ہی سرزمین پر حق سے محروم رکھنے، ناانصافیوں کا شکار بنانے کی ناپاک سازشوں کا جال پھیلا دیا ہے۔ ہندوستان کے مسلمانوں کو فرقہ پرستوں سے خطرہ ہے نگر افسوس مسلمانوں کے لہو میں حرارت پیدا نہیں ہورہی ہے۔ حضرت امام حسین ؓ تو کربلا میں امن مشن لے کر گئے تھے جسے کرب و بلا میں تبدیل کردیا گیا لیکن آج کے عالم اسلام کو حضرت حسین ؓ کی اس لئے ضرورت ہے کہ ہمارے اندر چھوٹے چھوٹے یزید پیدا ہوگئے ہیں۔ اقتصادی طور پر مسلمانوں کو گھائل کردیا گیا۔ ان کی پرامن زندگیوں میں فرقہ پرستی کا نقب لگانے کی کوشش عرصہ سے جاری ہیں۔ عالم اسلام کو اگر کربلا کے واقعہ سے اگر سبق حاصل کرنے کی توفیق ہو تو یہ پیغام ملے گا کہ کربلا کا مقام وہ ہے جہاں 72 نفسوس قدسیہ کی اپنے لہو میں نئی زندگی دی بلکہ دنیا بھر میں آمرانہ نظام کرچکی ہیں۔ دب کر بسنے والی اقوام کو جدوجہد کا ایسا راستہ دکھایا جس پر عالم اسلام چلنا شروع کرے تو ان کے ساتھ ہونے والی ناانصافیاں مظلومیت کے دور ختم کرنے کی جانب جدوجہد کا نیا عزم پیدا ہوگا مگر افسوس ہیکہ عالم اسلام اس پیغام کو اپنے قریب رکھتے ہوئے بھی اس پر عملی اقدام کرنے میں ناکام ہے جس کے نتیجہ میں ساری دنیا کی یزیدی طاقتیں عالم اسلام کو کمزور انتباہ کرنے کے منصوبوں میں کامیاب ہورہے ہیں۔ شام اور عراق میں داعش کے حوالے سے مغربی طاقتوں نے جو نئی خون ریزی کا سلسلہ شروع کیا ہے، کیا یہ واقعات عالم اسلام کی آنکھیں کھولنے کیلئے کافی نہیں ہیں۔ دراصل مسلمانوں نے واقعہ کربلا کی افادیت پر غوروفکر کرنا ہی ترک کردیا ہے جس کے نتیجہ میں ان کے اندر پس ہمتی فروغ پارہی ہے۔ جب مسلمان داخلی طور پر ایمان کی سطح پر کمزور ہوجاتے تو اسلام دشمن طاقتیں ان پر آسانی سے حاوی ہوتی ہیں۔ ساری دنیا میں یہی کچھ ہوتا جارہا ہے۔ اس وقت دین اسلام کی تعلیمات کا تقاضہ یہ ہیکہ مسلمانوں کی نمائندہ شخصیتیں ان منتشر عالم اسلام یا مظلوم قوم کو بیدار کرنے کا بیڑہ اٹھائیں۔ ساری دنیا میں عالم اسلام کو مضبوط بنانے کا کام اس سرے سے شروع کیا جائے جب نواسہ رسول حضرت امام حسین ؓ نے مدینہ منورہ سے روانہ ہونے سے قبل محمد بن حنیفہ کو لکھنے گئے وصیت نامے، والی بصرہ کے شام تحریر کردہ خط، دوران سفر دیئے گئے خطبات اور میدان کربلا میں کئے گئے خطاب میں جو باتیں کہیں تھیں، ان باتوں کا خلاصہ یہ ہیکہ اللہ اور اس کے رسول کے احکامات کی من و عن اطاعات کی جائے۔ امت کو خلفشار سے بچایا جائے۔ مسلمانوں کو واقعہ کربلا کے اصل پیغام سے واقف کروا کر یزیدی طاقتوں کے خلاف مضبوط مورچہ بنایا جائے۔ یہ کام دنیا بھر کے امیر مسلم ممالک ہی انجام دے سکتے ہیں لیکن افسوسناک پہلو یہ ہیکہ عالم اسلام کے تمام امیر سربراہان مملکت یزیدی طاقتوں کے اشاروں کام کررہے ہیں۔ اگر ان کا طرز حکمرانی تبدیل ہوجائے پٹرو ڈالر کا استعمال درست ہونے لگے تو غریب مسلم ملکوں اور غریب مسلمانوں کو ترقی و خوشحالی کی زندگی نصیب ہوگی۔ مسلم قیادتوں کو اپنی سوچ اور فکر کا زاویہ موافق اسلام و مسلمان بنانے کی ضرورت ہے۔ مسلمانوں کے مسائل کا حل خود اپنے اندر ہی تلاش کرنے کی کوشش کی جائے تو یزیدی و فرقہ پرست طاقتوں کی سازشوں کو ناکام بنانے کا ایک مضبوط مورچہ تیار ہوگا۔ اگر آج کی دنیا کی تلخیوں کو دیکھتے ہوئے سانحہ کربلا سے کوئی سبق نہیں سیکھا تو پھر مظلومیت ان کا تعاقب کرتی رہے گی۔ یزیدی طاقتیں ظلم ڈھاتی رہیں گی۔ مسلمانوں کے لئے موجودہ حالات فکر کی دعوت دیتے ہیں اس لئے انہیں یزیدی طاقتوں کو خود پر غالب آنے نہیں دینا چاہئے۔