یمن کے حوثی باغیوں کیخلاف سلامتی کونسل میں قرارداد منظور

اقوام متحدہ ۔ 16 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) اقوام متحدہ نے ایک قرارداد منظور کرتے ہوئے حوثی باغیوں سے مطالبہ کیا ہیکہ وہ حکومت یمن پر اپنے کنٹرول سے دستبردار ہوجائیں۔ حکومت کے اس بحران نے عرب دنیا کے اس غریب ترین ملک یمن کو تقریباً مفلوج کردیا ہے۔ عرب ملکوں نے حوثی باغیوں کے اس گروپ پر ناجائز طریقہ سے حکومت پر کنٹرول حاصل کرنے کا الزام عائد کیا۔ متعدد عرب ممالک نے یمنی حکومت کو باغیوں کے قبضہ سے آزاد کرانے کیلئے فوجی کارروائی کا مطالبہ کیا لیکن اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں تمام 15 رکن ممالک نے اقوام متحدہ منشور کے ساتویں باب کے تحت قرارداد منظور نہیں کی۔ اس باب میں فوجی کارروائی کی اجازت دی گئی ہے۔ قرارداد کے مشترکہ پیش کنندہ 10 ممالک نے جن میں امریکہ بھی شامل ہے، حوثی باغیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ غیر مشروط طور پر تمام سرکاری ادارہ جات سے فی الفور دستبردار ہوجائیں۔ برطانوی سفیر مارک لیال گرانٹ نے کہا کہ ’’یہ واضح ہیکہ ساری دنیا اس ضمن میں اقوام متحدہ کی طرف سے ایک طاقتور پیغام کا انتظار کررہی ہے۔ حوثیوں کو اپنے اقدامات و عوامل کی ذمہ داری قبول کرنا چاہئے۔ تشدد، جبر و استبداد کا سیاسی آلہ کار کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہئے۔ یمنی حکومت پر حوثیوں کے قبضہ نے کئی خطرات اور سنگین اندیشوں میں اضافہ کردیا ہے۔ یمن کے حوثی باغی اور یمن میں سرگرم القاعدہ کا خطرناک اور سنگین اندیشوں میں اضافہ کردیا ہے۔ یمن کے حوثی گروپ ایک دوسرے کے بدترین حریف ہیں۔ حکومت پر حوثیوں کے قبضہ سے پیدا شدہ نیراج و افراتفری کا القاعدہ گروپ فائدہ اٹھانے کی کوشش کرسکتا ہے۔ حوثیوں کو ایران کی تائید حاصل ہے۔ خلیجی تعاون کونسل کے رکن 6 عرب ملکوں نے گذشتہ روز سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا تھا کہ یمن میں پیدا شدہ بحران کے خاتمہ کیلئے وہ فی الفور مداخلت کرے۔ خلیج عرب کے 6 ملکوں نے خبردار کیا تھا کہ یمنی حکومت کے بحران کا جواب دینے میں اگر دنیا ناکام ہوجاتی ہے تو وہ علاقائی امن اور استحکام کیلئے (چھ خلیجی ممالک) اپنے طور پر قدم اٹھانے کیلئے تیار ہیں لیکن انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ وہ کیا اقدامات کریں گے۔ یمن پر سلامتی کونسل کی قرارداد نے حوثیوں سے یہ مطالبہ بھی کیا کہ وہ امریکہ کے تائید یافتہ یمنی صدر عابد (بومنصور) ہادی اور ان کی کابینہ کے ارکان کو رہا کرتے ہوئے نیک نیتی کے ساتھ امن مذاکرات میں شامل ہوجائیں۔