سعودی عرب حمایت یافتہ صدر یمن عبدالرب ہادی منصور کے مستحکم گڑھ عدن کے صیانتی ہیڈ کوارٹرس نشانہ
عدن ۔ 5 نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) دو خودکش حملے حکومت یمن کے مستحکم گڑھ عدن کے صیانتی ہیڈ کوارٹرس پر کئے گئے جس کی وجہ سے 5فوجی ہلاک ہوگئے اور جھڑپیں شروع ہوگئیں ۔ ایک سرکاری عہدیدار نے جو فوج کا اعلیٰ سطحی رکن ہے کہا کہ دھماکو مادوں سے بھری ہوئی ایک کار جس کو القاعدہ کا کارکن چلا رہا تھا بین الاقوامی مسلمہ حکومت یمن کے اہم ضلع خورمکسر ( عدن ) کے صیانتی ہیڈ کوارٹر کے باہر دھماکہ سے پھٹ پڑی ۔ دریں اثناء بعد میں بندوق بردار عدن کے فوجداری تحقیقات کے شعبہ میں گھس گئے ۔ فائلوں اور آثار قدیمہ کو نذر آتش کردیا جبکہ ایک خودکش بم بردار نے اپنا دھماکو مادوں کا کمربند عمارت میں دھماکہ سے اڑا دیا ۔ شعبہ کے ایک ذریعہ نے کہا کہ اتوار کے دن ان خودکش حملوں سے دہشت گردی سے متعلق اس پُرسکون علاقہ میں ایک مدت کے بعد خلل اندازی ہوئی جس کے نتیجہ میں عدن دہل کر رہ گیا ۔ جہاں صدر عبدالرب منصور ہادی مقیم ہیں ۔ جب سے کہ انہیں دارالحکومت صنعاء سے باغی گروپ نے 2014ء میں نکال باہر کیا ہے ۔ یمن کی عمارت برائے جنگ جہاں سعودی عرب حمایت یافتہ ہادی حکومت سابق صدر علی عبداللہ صالح اور ان کے ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغی حلیفوں سے مقابلہ کررہی ہے جس نے القاعدہ کو جزیرہ نما عرب میں پروان چڑھنے کی اجازت دی ہے اور جو ملک کے جنوبی علاقہ میں پھل پھول رہی ہے ‘ کے خلاف جدوجہد کررہی ہے ۔ یمن کی فوج جو سعودی زیر قیادت مخلوط اتحاد کی وفادار ہے اور حالیہ ہفتوں میں اے کیو اے پی کے مستحکم اڈوں کے قریب رہی ہے ان علاقوں سے جنوبی صوبوں ابیان اور شبوہ سے باغیوں کا تخلیہ کروا رہی ہے ۔ امریکہ جو اے کیو اے پی کو القاعدہ کی سب سے خطرناک شاخ سمجھتا ہے باقاعدہ طور پر جنوبی یمن میں ان پر فضائی حملے کرتا رہا ہے ۔ یمن میں سعودی عرب اور اس کے حلیفوں کے 2015ء میں جنگ میں شامل ہوجانے کے بعد سے اب تک 8600سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں ۔ عالمی تنظیم صحت کے بموجب سعودی عرب کی تائید برطرف صدر یمن عبدالرب ہادی منصور کو حاصل ہے ۔