اسلام آباد 10 اپریل (سیاست ڈاٹ کام)پاکستان کی پارلیمنٹ نے آج اتفاق رائے سے یہ فیصلہ کیا کہ یمن کی جنگ سے پاکستانی افواج کو دور رکھا جائے کیونکہ سعودی عرب نے بھی پاکستان سے خواہش کی تھی کہ وہ سعودی قیادت والی افواج میں پاکستانی افواج کو بھی شامل کرے تاکہ حوثی باغیوں کے خلاف کارروائی کی جاسکے ۔ سعودی عرب نے پاکستان سے نہ صرف افرادی قوت بلکہ طیارے اور بحری جہاز بھی طلب کئے تھے لہذا پارلیمنٹ کے فیصلہ کے بعد سعودی عرب کے اس مطالبہ کو مسترد کردیا جائے گا ۔ اس سلسلہ میں وزیر اعظم نواز شریف نے قانون سازوں سے بھی اُن کی رائے معلوم کی تھی۔
پیر کو پارلیمنٹ کے مشترکہ سیشن کا انعقاد ہوا تھا جہاں یمن کی صورتحال اور سعودی کی درخواست پر گذشتہ چار دنوں تک بات چیت ہوتی رہی اور بالآخر فیصلہ یہ کیا گیا کہ پاکستانی افواج یمن کی جنگ میں شامل نہیں ہوگی اور غیر جانبدار رہے گی تا کہ یمن کے بحران کے خاتمہ کے لئے موثر انداز میں سفارتی کارروائی کا موقف برقرار رہے۔البتہ قرار داد میں یہ ضرور کہا گیا ہے کہ اگر سعودی عرب کی سرحدوں کو خطرات لاحق ہوئے تو پاکستان اس کے شانہ بشانہ موجود رہے گا ۔ حرمین شریفین کو لاحق کسی بھی خطرہ کی صورت میں پاکستان ہمیشہ سعودی حکومت اور سعودی عوام کے ساتھ رہے گا ۔ قرار داد میں یمن کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔ جو اس خطہ کے دیگر علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے ۔ قرار داد میں وزیر مالیات پاکستان اسحق ڈار نے حکومت پر زور دیا کہ وہ اقوام متحدہ کے ساتھ ساتھ آرگنائزیشن آف اسلامک کوآپریشن (OIC)پر اس بات کا دباو ڈالے کہ وہ یمن میں فوری جنگ بندی کیلئے پیشرفت کرے ۔ اقوام متحدہ کی ایجنسیوں کا کہنا ہے 19 مارچ سے اب تک یمن میں 560 افراد جن میں اکثریت عام شہریوں کی ہے‘ جاں بحق ہوچکے ہیں۔