واشنگٹن۔ 15 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) یمن میں شیعہ حوثیوں پر سعودی عرب کی قیادت والی افواج کی فضائی حملوں سے خوفزدہ سینکڑوں امریکی شہری اور ان کے ارکان خاندان بیرونی بحری جہازوں کے ذریعہ یمن کا تخلیہ کرتے ہوئے ہجرت کرنے والے اس بڑے قافلے میں شامل ہوگئے ہیں، جو یمن سے بعجلت ممکنہ نکل جانے کا خواہاں ہے۔ ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ ان امریکی شہریوں کو بحفاظت ہندوستانی، کوریائی اور روسی بحری جہازوں تک پہنچایا جارہا ہے جو یمن سے جبوتی کے لئے روانہ ہورہے ہیں۔ گزشتہ ہفتہ کی ہی بات ہے جب امریکہ نے یہ اعلان کیا تھا کہ جنگ زدہ یمن میں موجود امریکی شہریوں کو تخلیہ کروانے کا اس کا کوئی ارادہ نہیں جہاں ان شہریوں سے یہ بھی کہا گیا تھا کہ اگر وہ یمن سے نکلنا ہی چاہتے ہیں تو بحری راستہ اختیار کریں جس سے یمن اور امریکہ کی دوہری شہریت رکھنے والے انتہائی برہم ہیں۔ ان کا ادعا ہے کہ امریکہ نے انہیں ایک نازک موقع پر یکا و تنہا کردیا۔ دریں اثناء اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی عبوری ترجمان ماریو ہارف نے دوہری شہریت رکھنے والوں کے دعوے کو غلط قرار دیا اور کہا کہ جو لوگ بھی جبوتی پہنچ رہے ہیں۔ انہیں غذا، پانی اور طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔ علاوہ ازیں امریکی سفارت خانہ کا عملہ ان لوگوں کے عارضی قیام کے لئے مناسب جگہ بھی فراہم کررہا ہے کیونکہ سخت دھوپ کی وجہ سے تمام شہریوں کی اسکریننگ اور پراسیسنگ کا عمل وقت طلب ہے اور شدت کی دھوپ میں ان کے لئے وہاں ٹھہرنا مشکل ہوتا جارہا ہے۔ یہاں تک کہ امریکی سفارت خانے میں عملے کی تعداد میں اضافہ بھی کیا گیا ہے تاکہ امریکی شہریوں کے کئی خاندانوں کی درخواست پر عمل آوری کو تیز تر کیا جاسکے۔