یتیم خانہ وکٹوریہ کی قدیم آصف جاہی مسجد فن تعمیر کا شاہکار

یتیم خانہ مسجد کے نام مشہور 70 ایکڑ اراضی پر موجود تاریخی عمارت کی مسجد میں آج بھی پنجگانہ نماز جاری
حیدرآباد ۔ 5 ۔ فروری : ( نمائندہ خصوصی) : شہر حیدرآباد فرخندہ بنیاد کو دنیا بھر میں جہاں تہذیب و تمدن ادب و احترام مہمان نوازی ، رحم دلی کے لیے جانا جاتا ہے وہیں اس شہر کو مسجدوں کا شہر بھی کہا جاتا ہے ۔ شہر میں فن تعمیر کی شاہکار ایک نہیں دو نہیں بلکہ ہزاروں مسجدیں ہیں ۔ جن کے وجود کو دیکھ کر آج بھی ماہرین حیرت میں پڑ جاتے ہیں ۔ ان میں سے اکثر مساجد قطب شاہی اور آصف جاہی دور حکمرانی میں تعمیر کئے گئے ہیں جس کی وجہ سے ان کی حیثیت نہ صرف مذہبی ہے بلکہ یہ ایک تاریخی ورثہ ۔ حیدرآباد کی ایسی ہزاروں مسجدوں میں سے ایک ایسی مسجد بھی ہے جسے اس کی طرز تعمیر اور ساخت کی وجہ سے اسے ایک منفرد مسجد کا بھی درجہ حاصل ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اب اس مسجد کی تعمیر کو 115 سال مکمل ہورہے ہیں ۔ یہ مسجد اگرچہ ’ یتیم خانے کی مسجد ‘ سے مشہور ہے ۔ مگر اس مسجد کا حقیقی نام ’سر نظامت جنگ مسجد ‘ ہے ۔ 9 میناروں والی اس مسجد میں باضابطہ پنجگانہ نماز بھی ہوتی ہے ۔ جب کہ یہاں جمعہ کی نماز 1-30 بجے ادا کی جاتی ہے ۔ جس میں مصلیوں کی کثیر تعداد شرکت کرتی ہے ۔ یہ عظیم الشان تاریخی مسجد کو نظام ہشتم میر محبوب علی خاں نے 114 سال قبل تعمیر کروایا تھا ۔ دراصل یہ مسجد یتیم خانہ وکٹوریہ سرور نگر میں واقع ہے ۔ 70 ایکڑ اراضی پر پھیلے ہوئے اس یتیم خانے کے احاطے میں واقع یہ مسجد موجود ہے ۔ واضح رہے کہ حیدرآباد دکن کے نوابوں ، بادشاہوں اور امراء نے بھی یتیموں اور بیواؤں کے لیے بے شمار اقدامات کئے ۔ انہی میں سے ایک سرور نگر کا یہ یتیم خانہ وکٹوریہ ہے ۔ یہ تاریخی عمارت 1901 میں محل سرور نگر کے نام سے تعمیر کی گئی تھی ۔ اس کا افتتاح یکم جنوری 1903 کو عمل میں آیا ۔ جس کی تعمیر نواب میر محبوب علی خاں نے کروایا تھا ۔ اس عمارت کا نام انگریزوں کی طرح ہونے کی اہم وجہ ملک برطانیہ وکٹوریہ سے نظام دکن کے گہرے روابط کا نتیجہ ہے ۔ کیوں کہ جب وکٹوریہ کا انتقال ہوا تو اسی سال اس عمارت کا افتتاح کرتے ہوئے اس کا نام وکٹوریہ میموریل آر فن ایج یا یتیم خانہ وکٹوریہ رکھ کر خراج عقیدت پیش کیا گیا ۔ یتیم خانہ وکٹوریہ کے قیام کا مقصد ہی یتیموں کے ساتھ حسن سلوک کرنا تھا ۔ یہاں موجود یتیم بچوں کے لیے اس وقت جو یونیفارم تھا وہ کرتا پاجامہ تھا اور اساتذہ کے لیے شیروانی زیب تن کرنا لازمی تھا لیکن ہندوستان کی تقسیم اور پولیس ایکشن کے بعد اس یتیم خانہ کی تہذیب بھی بدل گئی ۔ لیکن اس کا مقصد آج بھی زندہ ہے اور بے شمار یتیم بچے آج بھی اس عمارت سے فائدہ اٹھا رہے ہیں ۔ 70 ایکڑ اراضی پر موجود اس شاندار عمارت میں اب وکٹوریہ میموریل ہوم ریسیڈنشیل اسکول کا بورڈ جس پر اس کے قیام کی تاریخ یکم جنوری 1903 کے علاوہ اس کو تعمیر کرنے والے حکمران عزت مآب مرحوم میر محبوب علی خاں بہادر ( 1863-1911 ) درج ہے اور اس وقت یہاں 703 لڑکے اور لڑکیاں موجود ہیں ۔ اور یہاں داخلہ کے لیے بچوں کو والدین کا ڈیتھ سرٹیفیکٹ پیش کرنا پڑتا ہے ۔ ان بچوں کی دیکھ بھال کے لیے یہاں 30 افراد پر مشتمل عملہ موجود ہے ۔ اس تاریخی عمارت میں موجود تاریخی ’ سرنظامت جنگ مسجد ‘ آج بھی ماہرین فن تعمیر کے ساتھ ساتھ فرزندان توحید کو اپنی جانب راغب ہونے پر مجبور کردیتی ہے ۔ واضح رہے کہ اس مسجد کو بہت اچھی طرح سے رنگ و روغن کیا گیا ہے ۔ اس کا مینٹننس بھی بہت اچھے طریقے سے کیا گیا ہے ۔ اندر کا ہال بہت خوبصورت ہے ، جسے قائم رکھنے کے لیے مسجد کمیٹی ہر وقت کوشاں رہتی ہے ۔۔