آتش فرو آلات و دیگر انتظامات کا جائزہ، انسداد آتشزدگی واقعات پر خصوصی توجہ
حیدرآباد۔/15جون، ( سیاست نیوز) ہوٹلوں میں فائرسیفٹی کے متعلق مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے آئندہ دو ہفتوں کے دوران خصوصی مہم چلائے جانے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ حالیہ دنوں میں پیش آئے واقعات بالخصوص پیراڈائیز ہوٹل میں ہوئی آتشزدگی کے واقعہ کے بعد مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے عہدیداروں نے اس بات کا فیصلہ کیا ہے کہ شہر کی اہم ہوٹلوں میں آتش فرو آلات کی تنصیب کا ازسر نو جائزہ لیا جائے اور اس کے ساتھ ساتھ ہوٹلوں کے سیکورٹی انتظامات کا بھی خصوصی طور پر معائنہ کیا جائے۔ بتایا جاتا ہے کہ آئندہ دنوں میں جی ایچ ایم سی کی خصوصی ٹیم کی جانب سے دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد کی اہم ہوٹلوں کا معائنہ کرتے ہوئے اس بات کی طمانیت حاصل کی جائے گی کہ جو ہوٹلیں چلائی جارہی ہیں ان میں گاہکوں کے علاوہ ہنگامی حالات میں ملازمین کی زندگیوں کے تحفظ کیلئے کیا احتیاطی تدابیر اختیار کی جارہی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ شہر کی 3و 5ستارہ ہوٹلوں کے علاوہ دیگر نامور ہوٹلوں میں جہاں عوام کی بڑی تعداد ہوتی ہے ایسے مقامات پر مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے فوری اس بات کا جائزہ لینے کے احکامات جاری کئے گئے ہیں۔ علاوہ ازیں مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے خصوصی عملے کی جانب سے ماہ رمضان المبارک کے پیش نظر حلیم کی بھٹیوں کی تیاری پر بھی خصوصی نظر رکھی جارہی ہے چونکہ گزشتہ برس سٹی لائٹ ہوٹل کے منہدم ہوجانے سے پیش آئے حادثہ کے پیش نظر پیدا شدہ حالات کا اعادہ نہ ہو اس کے لئے مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے ہوٹل کی چھتوں پر بھٹیوں کی تعمیر کے خلاف خصوصی مہم چلانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس سلسلہ میں متعلقہ شعبہ کو اعلیٰ عہدیداروں کی جانب سے ہدایت موصول ہوچکی ہے کہ وہ اس طرح کی کسی بھی شکایت پر فوری کارروائی کریں تاکہ انسانی جانوں کے اتلاف سے محفوظ رکھنے کے اقدامات کئے جاسکیں۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد کی ان تمام ہوٹلوں کا معائنہ کیا جارہا ہے جہاں پر چھتوں پر پکوان کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں۔ بلدی عہدیداروں کے بموجب اس طرح کی شکایات پر بروقت کارروائی کرنے میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں کی جائے گی چونکہ اس طرح کے واقعات سے انسانی جانوں کے اتلاف کا خدشہ ہوتا ہے اور مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے ان معاملات میں کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔