ہنگامے کی وجہ سے راجیہ سبھا کی کارروائی دن بھر کیلئے ملتوی

نئی دہلی27دسمبر (سیاست ڈاٹ کام ) کاویری آبی تنازع، آنداھر پردیش کو خصوصی ریاست کا درجہ دیئے جانے اور بلند شہر واقعہ کو لے کر انادرمک، وائی ایس آر کانگریس، تیلگودیشم پارٹی (ٹی ڈی پی)، سماجوادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی کے ارکان کے ھنگامے کی وجہ سے جمعرات کو راجیہ سبھا کی کارروائی دن بھر کے لئے ملتوی کردی گئی۔صبح کارروائی شروع ہونے پر دو آنجہانی سابق ارکان کو خراج تحسین پیش کئے جانے اور ضروری دستاویزات ایوان کی ٹیبل پر رکھے جانے کے بعد انادرمک، وائی ایس آر کانگریس اور ٹی ڈی پی کے رکن ایوان کے وسط میں پہنچ گئے اور اپنی مانگوں کو لے کر نعرے لگانے لگے ۔ اسی دوران سماجوادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی کے رکن اپنے اپنے مقامات پر کھڑے ہوکر نعرے بازی کرنے لگے . کانگریس کے کچھ اراکین بھی چپ چاپ اپنی جگہوں پر کھڑے ہو گئے ۔چیئرمین ایم وینکیا نایڈو نے ارکان سے پرسکون رہنے اور ایوان کی کارروائی چلنے دینے کی اپیل کی، لیکن ھنگامہ کر رہے ارکان پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا۔انہوں نے کہا کہ رکن کارروائی نہیں چلنے دینا چاہتے ہیں اس لئے ان کے پاس جمعہ تک کے لئے کارروائی ملتوی کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے ۔اس کے بعد انہوں نے ایوان کی کارروائی دن بھر کے لئے ملتوی کر دی۔

طلاق ثلاثہ بِل کی لوک سبھا میں منظوری پر مختلف ردعمل
مسلم تنظیمیں منقسم ، امیت شاہ کی وزیراعظم کو مبارکباد، عام انتخابات کے پیش نظر عاجلانہ منظوری : کانگریس

نئی دہلی 27 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) طلاق ثلاثہ بِل کی لوک سبھا میں منظوری پر مسلم تنظیموں نے آج ردعمل ظاہر کیا۔ بعض نے اِسے انتہائی خطرناک قرار دیا جبکہ دیگر نے اِس کا استقبال کیا۔ ایس کیو آر الیاسی رکن ورکنگ کمیٹی آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے کہاکہ اِس بِل کی کوئی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ یہ آئندہ لوک سبھا انتخابات کو ذہن نشین رکھتے ہوئے منظور کیا گیا ہے۔ مولانا محمود دریابادی جنرل سکریٹری آل انڈیا علماء کونسل نے کہاکہ حکومت نے طلاق ثلاثہ منسوخ کردی ہے لیکن اِس پر مباحث نہیں ہوئے۔ حکومت کو مسلم خواتین اور شہریوں کو جن کی آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں رہا، مالیہ فراہم کرنے پر غور کرنا چاہئے۔ بھارتیہ مسلم مہیلا آندولن کی ذکیہ سمن نے اِس بِل کی منظوری کا خیرمقدم کرتے ہوئے مسلم قانونِ شادی کا مطالبہ کیا جس کے تحت دیگر مسائل جیسے کثیر زوجگی اور اطفال کی سرپرستی کی یکسوئی کی جاسکے۔ اپوزیشن مطالبہ کررہا ہے کہ یہ بِل مشترکہ سلیکٹ کمیٹی کے سپرد کیا جائے۔ اِس مطالبہ کے مسترد کردیئے جانے پر اپوزیشن جماعتوں نے واک آؤٹ کیا۔ بِل کی ندائی ووٹ کے ذریعہ منظوری سے قبل ووٹوں کی تقسیم کا مسئلہ اُبھرا تھا، تاہم اس کی تائید میں 245 اور مخالفت میں 11 ووٹ حاصل ہوئے۔ اپوزیشن نے کئی ترمیمات کی سفارش کی لیکن انھیں مسترد کردیا گیا۔ قومی صدر بی جے پی امیت شاہ نے بِل کی منظوری پر وزیراعظم کو مبارکباد دی اور کانگریس سے قوم سے معذرت خواہی کا مطالبہ کیا۔ جبکہ کانگریس نے کہاکہ عام انتخابات 2019 ء کے پیش نظر عجلت میں طلاق ثلاثہ بِل منظور کیا گیا ہے اور عام آدمی پارٹی نے کہاکہ بی جے پی اِس بِل کی منظوری سے سیاسی فوائد حاصل کرنا چاہتی ہے جبکہ خاتون تنظیموں کی کارکنوں نے طلاقِ ثلاثہ بِل کی منظوری کو ایک سیاسی اقدام قرار دیا اور کہاکہ لوک سبھا انتخابات سے قبل بی جے پی ملک میں ووٹوں کی صف بندی کرنا چاہتی ہے۔