واشنگٹن ۔ 19 اگست (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان اور پاکستان کے درمیان معتمدین خارجہ سطح کی بات چیت منسوخ ہونے کو امریکہ نے مایوس کن قرار دیا ہے اور کہا ہیکہ وہ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت اور باہمی تعلقات کو بہتر بنانے میں اپنا تعاون کرے گا۔ یہاں میڈیا نمائندوں سے اظہارخیال کرتے ہوئے امریکہ کی امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ ڈپٹی کی ترجمان میری ہارف نے کہا کہ یہ انتہائی بدقسمت ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان مجوزہ معتمدین خارجہ سطح کی بات چیت منسوخ ہوگئی ہے۔ میری نے مزید کہا کہ ہم ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تمام محاذ پر باہمی تعلقات کو بہتر بنانے میں اپنا تعاون جاری رکھیں گے اور اس موقع پر بھی ہم فریقین کیلئے حالات کو بہتر کرنے میں اپنا رول ادا کریں گے۔ واضح رہے کہ گذشتہ روز ہندوستان نے مجوزہ ہند ۔ پاک مذاکرات سے عین قبل اس بات چیت کو یہ کہتے ہوئے
ملتوی کردیا تھا کہ پاکستان کی کشمیری علحدگی پسندوں سے مشاورت پر سخت گیر حریت کانفرنس کے لیڈروں سے ملاقات ہندوستان کے لئے قابل قبول نہیں ہیں۔ پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط کے علحدگی پسند حریت قائدین سے مشاورت پر ہندوستان نے اعتراف کرتے ہوئے 25 اگست کو اسلام آباد میں منعقد شدنی مجوزہ بات چیت کو منسوخ کردیا ہے۔ علحدگی پسند لیڈر شبیر شاہ کے پاکستانی مشن پہنچنے سے عین قبل معتمد خارجہ سجاتا سنگھ نے عبدالباسط کو فون کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان واضح طور پر ہندوستان کے داخلی امور میں مداخلت کررہا ہے جو ناقابل قبول ہیں۔ پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط کو واضح طور پر کہہ دیا گیا ہیکہ پاکستان جو دانستہ طور پر اس طرح کا اقدام کررہا ہے وہ ہندوستان کے لئے کسی بھی لحاظ سے قابل قبول نہیں ہیں۔ دوسری جانب پاکستان نے دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی بات چیت کو منسوخ کرنے پر اسے پیچھے ہٹنے والا اقدام قرار دیا ہے جس سے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان بہتر تعلقات کی پیشرفت کو نقصان ہوگا۔ دریں اثناء امریکی ترجمان میری ہارف نے مزید کہا کہ فریقین میں چاہے جو بھی ملک کسی بھی وجہ سے بات چیت کو منسوخ کردیا ہے تاہم امریکہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعلقات کو بہتر بنانے میں اپنا رول ادا کرے گا۔ انہوں نے مزید کہاکہ امریکہ دونوں ممالک سے راست تبادلہ خیال کیلئے تیار ہیں۔ میری نے یہ بھی کہا کہ کشمیر کے متعلق امریکہ کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے کیونکہ امریکہ سمجھتا ہیکہ وادی میں امن اور ترقی کے لئے ہندوستان اور پاکستان کو باہمی تبادلہ خیال کے ذریعہ مسئلہ کا حل ڈھونڈنا چاہئے۔