لاہور ۔ 7 جنوری۔( سیاست ڈاٹ کام ) ہندو پاک دوستی کے نام پر نئی دہلی اور لاہور کے درمیان بس خدمات شروع کئے جانے کے سلسلہ میں ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ پاکستان نے بس کو لاہور اور ننکانہ صاحب میں داخل ہونے سے یہ کہہ کر روک دیا ہے کہ دہشت گرد حملوں کے خطرات موجود ہیں لہذا بس کو لاہور اور ننکانہ صاحب آنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ۔ پاکستانی ٹورازم ڈیولپمنٹ کارپوریشن نے بتایا کہ ہندو پاک کے درمیان بس خدمات اب صرف واگھا سرحد تک ہی محدود رہے گی ۔ دریں اثناء پاکستانی ٹورازم ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ بس آپریشن واگھا تک ہی محدود کردیا گیا ہے ۔ نئی دہلی اور امرتسر جانے والے مسافروں کو بس اب واگھا سرحد سے پکڑنی پڑے گی اور ہندوستان سے آنے والے مسافرین کو اب واگھا سرحد پر ہی اُترنا ہوگا ۔
دہشت گرد حملوں کے بڑھتے ہوئے اندیشوں کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے ۔ ۔ 16 ڈسمبر کو پشاور حملے کے بعد نواز شریف حکومت سکیورٹی معاملہ میں کوئی کوتاہی کرنا نہیں چاہتی ۔ قبل ازیں واگھا سرحد سے چلنے والی بس میں پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا جاتا تھا جو لاہور کے گلبرگ اور ننکانہ صاحب ٹرمنل تک جاتی تھی اور اسی طرح واپسی کے سفر میں بھی پولیس واگھا سرحد تک دوستی بس میں موجود رہتی تھی ۔ ایک آفیسر نے بتایا کہ اس فیصلہ سے مسافرین کو مشکلات کا سامنا تو ضرور کرنا پڑے گا لیکن ہم کیا کرسکتے ہیں۔ جو کچھ بھی کیا جارہا ہے وہ مسافرین کے تحفظ کے لئے ہی کیا جارہا ہے ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ 16 مارچ 1999 ء کو بس خدمات کا آغاز کیا گیا تھا ۔