ہند۔ سعودی عرب دفاعی تعاون معاہدہ

نئی دہلی ۔ 26 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان اور سعودی عرب میں باہمی تعلقات میں نئی جہت عطا کرنے کی سمت قدم اٹھاتے ہوئے آج دفاعی تعاون معاہدہ پر دستخط کئے۔ سلامتی کی شعبوں میں دونوں ممالک نے اپنی حکمت عملی کی شراکت داری کو مزید مستحکم بنایا ہے۔ اس معاہدہ پر سعودی عرب کے ولیعہد شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز ال سعود اور نائب صدر جمہوریہ حامد انصاری کے درمیان بات چیت کے بعد دستخط کی گئی۔ اس ملاقات میں دونوں سربراہوں نے باہمی، علاقائی اور بین الاقوامی مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔ دفاعی تعاون معاہدہ سے دفاع سے مربوط معلومات، فوجی تربیت اور تعلیم کے شعبوں میں ایک دوسرے سے تعاون کرنے کی اجازت حاصل ہوگی۔

قبل ازیں اس دورہ کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے نائب صدرجمہوریہ حامد انصاری نے ایرپورٹ پہنچ کر ولیعہد شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز کا خیرمقدم کیا ہے جو تین روزہ دورہ پر ہندوستان آئے ہیں۔ سعودی عرب کی جانب سے جنوری 2006ء میں خادم حرمین شریفین سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز ال سعود کے تاریخی دورہ کے بعد یہ سب سے بڑا اعلیٰ سطحی سیاسی دورہ ہے۔ ال سعود جو سعودی عرب کے نائب وزیراعظم اور وزیردفاع بھی ہیں، وزیراعظم منموہن سنگھ، وزیردفاع اے کے انٹونی اور وزیرخارجہ سلمان خورشید سے بھی ملاقات کریں گے۔ ولیعہد شہزادہ صدرجمہوریہ پرنب مکرجی سے بھی ملاقات کرنے والے ہیں۔

اس دورہ سے توقع ہیکہ ہندوستان اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات میں تازگی پیدا ہوگی۔ دونوں ممالک توقع ہیکہ دفاعی تعاون معاہدہ کو قطعیت دیں گے۔ سعودی عرب ہندوستان کا چوتھا سب سے بڑا تجارتی دوست ملک ہے جس کی باہمی تجارت سال 2012-13ء میں 43 بلین امریکی ڈالر ریکارڈ سطح تک پہنچی تھی۔ سعودی عرب ہندوستان کو خام تیل سربراہ کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ ہندوستان سے سعودی عرب کو معدنی، ایندھن، دالیں، لوہا، خام لوہا اور آرگیانک کیمیکلس برآمد کئے جاتے ہیں جبکہ ہندوستان سعودی عرب سے خام تیل، پلاسٹک اور اس کی اشیاء کے علاوہ فرٹیلائزرس، الیمونیم اور چمڑا درآمد کرتا ہے۔ سعودی عرب میں ہندوستان کے شہریوں کی کثیر تعداد مقیم ہے۔ ولیعہد شہزادہ کے ہمراہ اعلیٰ سطحی وفد جن میں کابینی وزراء اور سینئر وزراء شامل ہیں۔