ہند۔یونان تعاون ، تجارت و سرمایہ کاری کے وسیع تر مواقع

دنیا کی دو قدیم تہذیبوں کے مابین صدیوں پرانے گہرے روابط ، ایتھنس میں ہندوستانیوں سے صدر کوئیند کا خطاب
ایتھنس۔18 جون۔(سیاست ڈاٹ کام) صدرجمہوریہ رام ناتھ کوئیند نے 2025 ء تک دنیا میں صارفین کا تیسرے بڑا مارکٹ اور 5 کھرب امریکی ڈالر کی معیشت بننے کی جدوجہد میں مصروف اپنے ملک ہندوستان میں سرمایہ کاری کے سازگار موقعوں کو اُجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان اور یونان کے مابین انفراسٹرکچر ، سپلائی چین ، توانائی اور خدمات جیسے شعبوں میں باہمی تعاون و اشتراک کے بے پناہ مواقع ہیں ۔ کوئیند جو 11 سال کے دوران یونان کا دورہ کرنے والے پہلے ہندوستانی صدر ہیں جو تین قومی دورہ کے پہلے مرحلے میں ہفتہ کو یہاں پہونچے تھے ۔ صدر کوئیند نے یہاں ہندوستانی برادری کے ارکان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کے دورہ سے ہندوستان اور یونان کے درمیان تعلقات مستحکم ہوں گے ۔ باہمی تعلقات بہتر بنانے سمندر پار ہندوستانیوں کے کلیدی رول کی ستائش کی ۔ صدرجمہوریہ نے کہا کہ ’’ہندوستان اور یونان نے قدیم دنیا میں تہذیب و تمدن کے نظریات متعارف کیا ہے ۔ دونوں ملکوں کے مابین تعلقات انتہائی گہرے اور قدیم ہیں۔ یونانی مورخ مگستھانیس نے اپنی کتاب ’’ہند‘‘ کے ذریعہ دنیا سے ہندوستان کا تعارف کروایا ۔ یونان کے جاں باز جنگجو میلیوکس کی دختر نے مہاراجہ چندراگپتا سے شادی کی تھی ۔ ہند اور یونان کے درمیان صدیوں قدیم گہرے تعلقات کی تفصیلات ہمیں تاریخ کی کتابوں میں ملتی ہیں ‘‘ ۔ انھوں نے کہاکہ ’’ہندوستان کو ہم 2025 ء تک دنیا بھر میں صارفین کا تیسرا بڑا مارکٹ اور 5 کھرب امریکی ڈالر کی معیشت بنانے کیلئے کام کررہے ہیں ۔ بین الاقوامی مالیاتی ادارہ ( آئی ایم ایف ) اور عالمی بینک کے مطابق ہماری شرح ترقی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے ۔ ‘‘ ہندوستانی معیشت کا تخمینہ فی الحال 2.5 کھرب امریکی ڈالر کیا گیاہے ۔ کوئیند نے کہاکہ ہندوستان کو اس کی فعال جمہوریت ، علاقہ و آبادی کی اہمیت کے اعتبار سے دنیابھر میں انتہائی مضبوط و مستحکم مقام حاصل ہے ۔ ہندوستان اور یونان کے درمیان 530ملین امریکی ڈالر کی باہمی تجارت ہے ۔ یونان میں ہندوستانیوں کی تعداد 12000 سے زائد ہے ۔ کوئیند ، یونان کے بعد سورینام اور کیوبا کا دورہ بھی کریں گے۔