ہند۔پاک معتمدین خارجہ کے25اگست کو مذاکرات

سرینگر۔17اگست ( سیاست ڈاٹ کام) مرکزی وزیر برائے اقلیتی اُمور نجمہ ہبت اللہ نے آج کہا کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان معتمدین خارجہ سطح کی بات چیت دونوں ملکوں کے تعلقات کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوگی۔ اگر پڑوسی ملک پاکستان کی نیت نیک ہو تو یہ تعلقات بہتر ہوسکتے ہیں ۔ نجمہ ہبت اللہ نے یہاں اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ’’ اگر پاکستان کے ارادے اچھے ہوں تو مجھے یقین ہے کہ یہ تعطل ختم ہوجائے گا ‘‘ ۔ کیونکہ ہمارے ارادے اچھے ہیں اور ہمارے لیڈر ( وزیراعظم نریندر مودی ) کی بھی نیت نیک ہے ‘ ورنہ وہ اپنی حلف برداری تقریب میں وزیراعظم پاکستان نواز شریف کو مدعو نہیں کرتے ۔ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کیلئے ضروری ہے کہ نیک دلی کا مظاہرہ کیا جائے ‘ مرکزی وزیر نے کہا کہ ہند۔ پاک معتمدین خارجہ سطح کی بات چیت سے قبل پاکستان کے ہائی کمشنر برائے ہند عبدالباسط نے دہلی میں مشاورت کیلئے کشمیر کے علحدگی پسند لیڈروں کو مدعو کیا ہے ۔

یہ اقدام مذاکرات کیلئے پیدا کی جانے والی فضاء کو مکدر کرسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بلاشبہ ہماری طرف سے ماحول صاف اور خوشگوار ہے اب انہیں یہ ظاہر کرنا ہے کہ ان کے ارادے کتنے نیک ہیں۔ نجمہ ہبت اللہ نے کہا کہ عوام کو نریندر مودی حکومت کے تعلق سے کوئی اندیشے پیدا نہیں کرنا چاہیئے ۔ عوام نے دیکھا ہے کہ ماضی کی بی جے پی حکومت نے کتنے اچھے کام کئے تھے ۔ سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی نے پاکستان کے ساتھ دوستی کا ہاتھ بڑھایا تھا ۔ عوام کو شبہ ہے کہ بی جے پی جب پہلی بار حکومت میں آئی تھی تو اسے آج کی طرح اکثریت حاصل نہیں تھی ‘ اب اس مرتبہ بی جے پی کو بھاری اکثریت حاصل ہوئی ہے تو وہ کچھ بھی کرسکتی ہے ۔ نجمہ ہبت اللہ نے کہا کہ میں نہیں سمجھتی کہ عوام اس طرح کے اندیشے کیوں پیدا کرلیتے ہیں ۔ عوام نے واجپائی حکومت کو بھی دیکھا ہے اور کشمیر کیلئے انہوں نے کیا کچھ کیا ہے وہ بھی واقف ہیں ۔

ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات کو بہتر بنانے کیلئے بھی واجپائی نے مثبت کوشش کی تھی ۔ دنیا میں کسی بھی وزیراعظم نے ایک ملک سے دوسرے ملک تک بس کا سفر نہیں کیا ہوگا ۔واجپائی نے دوستی کے پیام کے ساتھ پاکستان کا بس کے ذریعہ سفر کیا تھا ۔ انہوں نے پاکستان سے دوستی کو فروغ دینے کی کوشش کی تھی ۔ مجھے یقین ہے کہ 2004ء کے انتخابات بھی واجپائی جیت جاتے تو کشمیر کی صورتحال مختلف ہوتی ۔ نجمہ ہبت اللہ نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی بھی واجپائی کے نقش قدم پر چل رہے ہیں اور وہ پڑوسی ملکوں کے ساتھ خوشگوار تعلقات رکھنا چاہتے ہیں ۔ اس کا پہلا ثبوت حلف برداری تقریب میں نواز شریف کو مدعو کرنا ہے اور 15اگست کو بھی انہوں نے اپنی یوم آزادی تقریر میں نہ صرف ترقی و خوشحالی کی بات ہے بلکہ انہوں نے سارک ملکوں کے قائدین کو ایک دوسرے کا ساتھ دیتے ہوئے آگے بڑھنے کی ترغیب دی ہے ۔