ہندو ۔مسلم جوڑے کی مبینہ تحقیر پر لکھنو پاسپورٹ آفس کے عہدیدار کا تبادلہ

لکھنو/ نئی دہلی۔21 جون (سیاست ڈاٹ کام) پاسپورٹ سیوا کیندر لکھنو کے ایک عہدیدار کا آج تبادلہ کردیا گیا کیوں کہ اس نے مبینہ طور پر ایک بین مذہبی جوڑے کی تحقیر کی تھی۔ شوہر کنگ کو ہندوازم میں تبدیلی مذہب کرنے کا مشورہ دیا اور اس کی بیوی کو ایک مسلم سے شادی کرنے پر تحقیر کا نشانہ بناتے ہوئے اسے کھینچ کر دور کردیا جبکہ وہ اپنی پاسپورٹ درخواستوں کے ساتھ دفتر گئے تھے۔ کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے محمد انس صدیقی اور تنوی سیٹھ نے جس نے مبینہ طور پر 12 سال قبل اپنے شوہر کے ساتھ شادی کی تھی۔ ٹوئٹر پر اپنے اوپر ظلم کی داستان تحریر کی اور وزیر خارجہ سشما سوراج کو کل روانہ کردی۔ ایک دن بعد علاقائی پاسپورٹ آفس لکھنو نے وکاس ایم مشرا کا تبادلہ کردیا کیوں کہ اس وقت جوڑے کی تحقیر کا الزام تھا۔ علاقائی پاسپورٹ آفیسر پیوش ورما نے کہا کہ ایک وجہ بتائو نوٹس عہدیدار کو جاری کی گئی ہے اور اس کا فوری تبادلہ کردیا گیا ہے۔ ورما نے کہا کہ پاسپورٹس اس جوڑے کو جاری کردیئے گئے۔ آج جبکہ انہوں نے دفتر کی ضروریات کی تکمیل کردی انہیں پاسپورٹ جاری کردیئے گئے۔ ورما نے لکھنو میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے خاطی عہدیدار کے خلاف کارروائی کا تیقن دیا۔ (تفصیلی خبر صفحہ 5 پر)