ایک گاؤں ایسا جہاں گھروں میں دروازے نہیں ، دوسرے گاؤں میں صرف مجرد آبادی
مہاراشٹرا کے ایک موضع میں تمام مکین کروڑ پتی ، گجرات میں آفریقی گاؤں
ہندوستان کی جملہ آبادی 1.3 ارب کے ہندسے کو عبور کرچکی ہے اور دلچسپ کی بات یہ ہے کہ ہمارے اس عظیم ملک میں چہارسو سرسبز و شادابی پائی جاتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ 68.84 ہندوستانی یعنی 833.1 ملین ہندوستانی باشندے 640867 مواضعات میں رہتے ہیں ان میں 236.004 مواضعات ایسے ہیں جن کی آبادی 500 سے بھی کم ہے جب کہ 3976 مواضعات ایسے ہیں جن کی آبادی 10 ہزار سے زائد نفوس پر مشتمل ہے ۔ یہ اعداد و شمار 2011 کی مردم شماری میں ظاہر کئے گئے تھے لیکن تازہ ترین اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ مردم شماری میں جن گاؤں یا مواضعات کا احاطہ کیا گیا ان کی تعداد 597,464 اور ہر موضع میں کئی چھوٹے دیہات ہیں 36 ریاستوں بشمول مرکز زیر انتظام علاقوں کے گاؤں کا جائزہ لینے پر پتہ چلتا ہے کہ ہمارے ملک میں 649481 مواضعات ہیں سب سے زیادہ 170891 مواضعات ٹاملناڈو میں ہے ۔ 107452 مواضعات کے ساتھ اترپردیش دوسرے نمبر پر ہے ۔ 55429 گاؤں کے ساتھ مدھیہ پردیش کو تیسرے نمبر پر دکھایا گیا ہے جب کہ ریاست تلنگانہ میں مواضعات کی تعداد 10434 بتائی گئی ہے ۔ اگر ہم ان مواضعات یا گاؤں کا جائزہ لیں تو ہمیں ہر گاؤں میں کچھ نہ کچھ خوبی اور خصوصیات نظر آئیں گی ۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ان گاؤں میں جہاں توہم پرستی پائی جاتی ہے وہاں ایسے گاؤں بھی ہیں جس میں تعلیم یافتہ دولت مند اور عصری تقاضوں سے ہم آہنگ لوگ رہتے ہیں ۔ قومی سطح پر ایسے گیارہ گاؤں یا مواضعات ہیں جو سارے ملک کے لیے مثالی ہیں ۔ شنی شگناپور مہاراشٹرا کا ایک گاؤں ہے جہاں آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ گاؤں کے تمام گھروں میں دروازے نہیں یہاں تک کہ اس گاؤں میں کوئی پولیس اسٹیشن بھی نہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ وہاں سرقہ یا چوری کے واقعات پیش نہیں آتے ۔ مہاراشٹرا میں تیستھپال نامی ایک گاؤں ہے اس گاؤں کی خاص بات یہ ہے کہ ہر گھر میں سانپ رکھا جاتا ہے ۔ جسے خاندان کا ایک رکن سمجھا جاتا ہے ۔ مہاراشٹرا کا ایک اور گاؤں ہیوارے بازار ہے اس گاؤں کو ہندوستان کا دولت مند ترین گاؤں کہا جاتا ہے ۔ اس گاؤں میں 60 کروڑ پتی رہتے ہیں ۔ اس گاؤں میں آپ کو کوئی غریب نہیں ملے گا جب کہ یہاں کے مکینوں کی فی کس آمدنی بھی سارے ملک میں سب سے زیادہ ہے ۔ اب چلتے ہیں گجرات کے ایک گاؤں پنساری ، اسے ہندوستان کا سب سے عصری گاؤں کہا جاتا ہے ۔ تمام مکانات سی سی ٹی وی اور وائی فائی سے لیس ہیں ۔ تمام سڑکوں پر اور گلیوں میں شمسی توانائی سے روشن ہونے والی لائٹس ہیں ۔ گجرات میں جمبور نامی ایک گاؤں ہے جہاں کے لوگ آفریقی باشندوں کی طرح سیاہ فام ہوتے ہیں ۔ آپ کو ایسا لگے گا یہ کوئی آفریقی گاؤں ہو لیکن یہ خالص ہندوستان ہے اس گاؤں کو آفریقی گاؤں بھی کہا جاتا ہے ۔ راجستھان میں کلدھارا نامی ایک گاؤں ہے اس گاؤں میں مکانات ہیں لیکن ان مکانات میں کوئی نہیں رہتا ۔ یہ ایک طرح سے بھوت گاؤں ہے ۔ کودپنھی کیرالا کا ایک گاؤں ہے اس گاؤں کی خاص بات یہ ہے کہ وہاں صرف جڑواں بچے پیدا ہوتے ہیں ۔ گاوں میں فی الوقت 400 سے زائد جڑواں بچے ہیں ۔ اب چلتے ہیں ریاست کرناٹک کے موضع متور ، اس گاؤں کی صد فیصد آبادی سنسکرت زبان بولتی ہے ۔ اب ہم آپ کو بہار کے ایک گاوں بروان کالا کے بارے میں واقف کرواتے ہیں یہ مجردوں کا گاؤں ہے ۔ پچھلے 50 برس میں وہاں کوئی شادی نہیں ہوئی ۔ دوسری طرف میگھالیہ کا ایک گاؤں مالینگانگ ہے اس گاؤں کو ایشیا کا صاف ستھرا گاؤں کہا جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ مذکورہ گاؤں میں ایک چھوٹے پہاڑ پر ایک بہت بڑا پہاڑ بھی کھڑا ہوا ہے ۔ رنگڈوئی آسام کا ایک گاؤں ہے مکینوں کا عقیدہ ہے کہ بارش کے لیے مینڈک شادی کرتے ہیں ۔۔