منیسر (ہریانہ) 16 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) ملک کی اعلیٰ سطحی انسداد دہشت گردی فوج این ایس جی نے انتباہ دیا کہ عالمی دہشت گرد تنظیمیں جیسے خوفناک آئی ایس آئی ایس اور القاعدہ متحد ہوکر ہندوستان کے کئی شہروں پر بیک وقت حملے کرسکتے ہیں۔ دہشت گرد حملوں کا یہ انتباہ این ایس جی کے ڈائرکٹر جنرل جے این چودھری نے انتباہ دیتے ہوئے کہاکہ 2008ء کا ممبئی قتل عام جس میں166 افراد ہلاک کئے گئے تھے، صرف ایک ٹریلر تھا۔ این ایس جی نے ساتھ ہی ساتھ کہاکہ وہ حملوں کا سامنا کرنے کے لئے پوری طرح تیار ہے اور جب بھی ضرورت ہو اور جیسی بھی ضرورت ہو جوابی کارروائی کی جائے گی۔ ایک دن قبل اعلیٰ سطحی فوجی عہدیدار نے کہا تھا کہ کشمیر میں آئی ایس آئی ایس کے پرچم لہرانے کا معاملہ فکرمندی کا باعث ہے اور اِس پر صیانتی محکموں کو اعلیٰ ترین توجہ مرکوز کرنی چاہئے تاکہ وادیٔ کشمیر کے نوجوانوں کو جہادی تنظیم کی صفوں میں شامل ہونے سے روکا جاسکے۔ چودھری نے کہاکہ یہ صرف ایک امکان نہیں بلکہ اِس سے کہیں بڑھ کر ہے۔ عالمی دہشت گرد گروپس اپنی حلیف جماعتیں تلاش کرچکے ہیں جیسے حرکت المجاہدین، جیش محمد، انڈین مجاہدین اور لشکر طیبہ پہلے ہی ہندوستان میں موجود اور سرگرم ہیں۔ اب بین الاقوامی دہشت گرد تنظیمیں جیسے القاعدہ ہندوستان پر حملے کے اپنے عزائم کا اعلان کرچکی ہیں
اور واضح طور پر اُن کا اتحاد معروف گروپس کے ساتھ ہے جو ملک میں سرگرم ہیں۔ چاہے وہ لشکر ہو یا جیش یا حرکت یا آئی ایم۔ اُنھوں نے کہاکہ اگر وہ متحدہ طور پر حکمت عملی تیار کرتے اور کارروائی کرتے ہیں تو ہمیں چوکس رہنا ہوگا۔ اگر دہشت گرد گروپس متحدہ طور پر کارروائی کرتے ہیں تو یہ ایک خطرہ ہے اور امکان ہے کہ کئی شہروں پر بیک وقت حملے کئے جائیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم تیاری کررہے ہیں اور جب بھی انسداد دہشت گردی فوج اور ریاستی پولیس، بلیک کیاٹ کمانڈوز کے سربراہ متحد ہوجائیں تو ایسے حملوں کا سامنا کیا جاسکتا ہے۔ وہ این ایس جی کی 30 ویں یوم تاسیس تقریب کے موقع پر علیحدہ طور پر پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ چودھری نے کہاکہ اُنھیں یاد ہے کہ انٹلی جنس بیورو نے اطلاع فراہم کی تھی کہ القاعدہ کے کارکنوں نے گوا، بنگلور اور امرتسر میں تقریباً 10 سال قبل اپنے اجتماعات منعقد کئے ہیں۔ چودھری نے کہاکہ ہندوستان کے مخدوش مقامات القاعدہ کیلئے نئے نہیں ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ گوا میں کثیر تعداد میں غیرملکی اور ملکی سیاح آیا کرتے ہیں۔ لیفٹننٹ جنرل سبرتا سنا جنرل آفیسر کمانڈنگ سرینگر 15 کور نے کہا ہے کہ داعش کثیر تعداد میں رضاکاروں کو بھرتی کررہی ہے اور یہ ایک فکرمندی کی وجہ ہے۔
اُنھوں نے کہا تھا کہ متحدہ کوشش کرتے ہوئے وادی کے نوجوانوں کو دہشت گردی کے راستے پر چلنے سے روکنا ضروری ہے۔ آئی ایس آئی ایس کے پرچم لہرانے کے واقعہ سے شک و شبہ پیدا ہوتا ہے اور صیانتی محکموں کو وادیٔ کشمیر پر اپنی توجہ مرکوز کرنی چاہئے تاکہ آئی ایس آئی ایس کو رضاکاروں کی بھرتی سے روکا جاسکے۔ سمجھا جاتا ہے کہ 10 ہزار سے 15 ہزار تک رضاکار آئی ایس آئی ایس کے پرچم تلے جنگ کررہے ہیں۔ قبل ازیں ریاستی صدر بی جے پی نے بھی وادیٔ کشمیر میں دولت اسلامیہ کا پرچم لہرانے کے مبینہ واقعہ کو فکرمندی کی وجہ قرار دیا تھا اور الزام عائد کیا تھا کہ چیف منسٹر جموں و کشمیر عمر عبداللہ اِس کی اہمیت کم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اُنھوں نے کہا تھا کہ یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے اور اِس بات کی علامت ہے کہ دہشت گردی وادی پر دستک دے رہی ہے۔