ہندوستان کے قرض کا تناسب عالمی جی ڈی پی سے کم: آئی ایم ایف

واشنگٹن۔ 10 اکتوبر (سیاست ڈاٹ کام) بین الاقوامی مانیٹری فنڈ (IMF) کے ایک اعلیٰ سطحی عہدیدار نے آج ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کی مستحکم مارکیٹ معیشتوں (ممالک) کے مقابلے ہندوستان کے قرض کا پیمانہ کافی نیچے ہے۔ انہوں نے انتباہ دیا کہ اس وقت عالمی قرض داری (2017ء تک) حیرت انگیز اور تشویشناک حد تک 182 کھرب ڈالرس تک پہنچ چکی ہے۔ بین الاقوامی مانیٹری فنڈ (IMF) کے ڈائریکٹر برائے فسکل افیئرس ڈپارٹمنٹ وکٹر گیاسپر نے بتایا کہ ہندوستان کے قرض کا پیمانہ عالمی قرض داروں کے تناسب یعنی گراس ڈومیٹک پروڈکٹ (جی ڈی پی) کے مقابلے بے حد کم ہے۔ ہندوستان میں 2017ء میں خانگی قرض داروں جی ڈی پی کی 54.5% تھی جو دراصل مجموعی طور پر جی ڈی پی کی 125% تھی۔ آئی ایم ایف سے جاری تازہ ترین اعداد و شمار میں یہ بات بنائی گئی جبکہ مسابقتی طور پر چین کا قرض جی ڈی پی کا 247% تھا۔ گیاسپر نے کہا کہ اس طرح ہندوستان کا قرض عالمی قرض کے مقابلے بے حد کم ہے جس میں عالمی جی ڈی پی کا تناسب بھی شامل ہے۔