تلنگانہ کے اہم آبپاشی پراجکٹس محکمہ عمارات و شوارع کے پہلے چیف انجینئر کے کارنامے
تاریخی مقام کو علی نواز جنگ سے موسوم کرنا ضروری
حیدرآباد ۔ 8 ۔ جولائی : آندھرا پردیش اور تلنگانہ میں آبپاشی کے جتنے بڑے اور اوسط پراجکٹس ہیں ان کی تعمیر کرنے والے اور تعمیر میں اہم رول ادا کرنے والوں کو سقوط دکن کے بعد یکسر فراموش کردیا گیا ۔ اس بارے میں تلنگانہ والوں کا یہی کہنا تھا کہ آندھرا والوں نے نہ صرف تلنگانہ والوں کو دبائے رکھا بلکہ قطب شاہی و آصف جاہی حکمرانوں کے علاوہ شاہی دور کے ماہرین کی یادوں کو تعصب اور جانبداری کی موٹی چادر سے ڈھانک دیا ہے ۔ حد تو یہ ہے کہ اس دور کی ان اہم شخصیتوں کے ناموں کو بھی جان بوجھ کر ریاست کی تاریخ سے مٹانے کی کوشش کی گئی ۔ جنہوں نے اپنی صلاحیتوں سے معاشرہ میں انقلاب پیدا کردیا تھا ۔ ایسی ہی شخصیتوں میں سے ایک میر احمد علی المعروف نواب علی نواز جنگ بھی شامل ہیں ۔ انہیں ریاست حیدرآباد کا پہلا چیف انجینئر کہا جاتا ہے ۔ نواب علی نواز جنگ کے باعث سارے آندھرا پردیش بالخصوص تلنگانہ میں آبپاشی پراجکٹس کا ایک وسیع جال پھیلا ۔ خاص طور پر 1920 میں تعمیر ہوئے عثمان ساگر 1927 میں تکمیل پائے حمایت ساگر 1923 میں ایک بہت بڑے علاقہ کی آبپاشی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے تعمیر کردہ نظام ساگر کے علاوہ روپان پلی پراجکٹس نواب علی نواز جنگ اور ان کی با صلاحیت ٹیم کے کارنامے ہیں ۔ وائرا ، پالیر اور فتح نہر جیسے بڑے آبپاشی پراجکٹس کی تعمیر میں حیدرآباد کے اس قابل سپوت کا اہم رول رہا ۔ کرشنا گوداوری پر بھی پلوں ، ڈیمس اور عمارتوں کی تعمیر کا کریڈٹ بھی نواب علی نواز جنگ کو جاتا ہے ۔ ان کی پیشہ وارانہ مہارت کے ہندوستان کے سارے محکمہ جات عمارات و شوارع معترف ہیں بالخصوص نظام ساگر پراجکٹ کے ڈیزائن اور اس کی تعمیر کو دیکھ کر ماہرین رشک کرتے ہیں ۔ نظام ساگر کا ڈیزائن بھی نواب علی نواز جنگ نے ہی تیار کیا تھا ۔ ان کی فراست و تدبر کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ تنگبھدرا اور کرشنا کے پانی کی تقسیم کے مسئلہ پر حیدرآباد اور مدراس کی حکومتوں کے درمیان تنازعہ نے سنگین رخ اختیار کرلیا تھا لیکن تلنگانہ کے اس قابل فرزند نے بڑی خوش اسلوبی کے ساتھ وہ مسئلہ حل کردیا اس طرح دونوں ریاستوں کو انصاف مل گیا ۔ 11 جولائی 1877 کو میر واحد علی کے گھر میں آنکھیں کھولنے والے میر احمد علی نے اپنے بچپن سے ہی یہ ثابت کردیا تھا کہ وہ آگے چل کر ملک و ملت کے لیے بہت بڑا کام کرنے والے ہیں اور ایسا ہی ہوا ۔ میر واحد علی نے جو دفتر ملکی میں اسسٹنٹ سکریٹری کے عہدہ پر فائز تھے اپنے فرزند میر احمد علی کو سینٹ چارجس گرامر اسکول میں داخلہ دلایا ۔ پھر مدرسہ عالیہ میں انہوں نے تعلیم حاصل کی ۔ اسکولی تعلیم کی تکمیل پر نواب علی نواز جنگ نے نظام کالج میں داخلہ لیا ۔ 1896 میں انہیں ریاست کی خصوصی اسکالر شپس پر برطانیہ روانہ کیا گیا جہاں کے کوپر ہلز Cooper Hills کے مشہور انجینئرنگ کالج میں ان کی تعلیم و تربیت کا سلسلہ شروع ہوا ۔ نواب علی نواز جنگ کی ذہانت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہ اپنے کالج کے سرفہرست طلبہ میں بھی سرفہرست تھے ۔ راقم الحروف نے آندھرا پردیش ، تلنگانہ ، ٹاملناڈو اور مہاراشٹرا کے ساتھ ساتھ کرناٹک پر احسان کرنے والی اس شخصیت کے بارے میں تاریخ کے اوراق پلٹے تو ان کے بارے میں کئی ایک باتیں معلوم ہوئیں ۔ بہر حال نواب علی نواز جنگ ایف سی ایچ 1898 میں حیدرآباد واپس ہوئے اور محکمہ عمارات و شوارع PWD میں اسسٹنٹ انجینئر کی حیثیت سے اپنی خدمات کا آغاز کیا ۔ 1906 میں وہ میونسپل انجینئر 1906 میں ہی آڈیٹر 1910 میں کنسلٹنگ انجینئر اور سپرنٹنڈنگ انجینئر 1913 میں حکومت حیدرآباد کے سکریٹری اور 1918 میں پی ڈبلیو ڈی کے باضابطہ پہلے چیف انجینئر کی حیثیت سے نمایاں خدمات انجام دیں ۔ ان کی قابلیت کا ہر کوئی معترف تھا ۔ کچھ عرصہ قبل نظام ساگر میں ان کا مجسمہ نصب کیا گیا ہے ۔ آپ کو بتادیں کہ ریاست کے گاؤں گاؤں تک ٹیلی فون کی سہولت پہنچانے کا سہرابھی نواب علی نواز جنگ کے سر جاتا ہے ۔ 1929 میں حکومت ممبئی نے انہیں ملک سکور بیارج کے مالی و ٹکنیکی پہلوؤں پر ایم ویشویشوریا کے ساتھ کام کرنے کے لیے مدعو کیا ۔ اور ان کی صلاحیتوں کی ستائش کی ۔ ان کی خدمات کو دیکھتے ہوئے نظام آباد کے علی ساگر کو ان ہی سے موسوم کیا گیا ہے ۔ ہر سال 11 جولائی کو ان کی یوم پیدائش کے موقع پر تلنگانہ میں انجینئرس ڈے منایا جاتا ہے ۔ لیکن سرکاری طور پر کوئی تقریب منعقد نہیں ہوتی ۔ اب جب کہ تلنگانہ علحدہ ہوچکا ہے ایسے میں ریاست اور عوام کے اس محسن کی بڑے پیمانے پر یاد منانا چاہئے ۔ شہر میں کئی ایسے مقامات ہیں جو نواب علی نواز جنگ سے موسوم کئے جاسکتے ہیں ۔ مثال کے طور پر چیریان پیالیس کی اراضی پر تعمیر کردہ برہمانند ریڈی پارک کو نواب علی نواز جنگ پارک کا نام دیا جاسکتا ہے ۔ اس سلسلہ میں کے سی آر حکومت کو ضرور پہل کرنی چاہئے جس کے نتیجہ میں تلنگانہ اور حیدرآباد کے ایک قابل سپوت کو خراج عقیدت پیش کیا جاسکتا ہے ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ دہلی میں جو عالیشان اور فن تعمیر کا شاہکار حیدرآباد ہاوز ہے اس کے بھی ڈیزائن اور تعمیر میں نواب علی نواز جنگ کا اہم رول رہا ہے ۔۔