وکٹوریہ ۔ 19 جون (سیاست ڈاٹ کام) سیچلیز کے صدر ڈینی فارے نے آج واضح طور پر یہ کہا ہیکہ ’’جزیرہ اسمپشن‘‘ پر ہندوستان کے ساتھ جس بحری اڈے کے قیام کا معاہدہ کیا گیا تھا، اس میں اب مزید پیشرفت نہیں کی جائے گی کیونکہ وہاں حکومت سیچلیز خود اپنے فنڈس سے ایک بحری اڈہ قائم کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کے آئندہ دورہ ہند کے موقع پر اس موضوع پر کوئی بات نہیں ہوگی۔ یاد رہیکہ اس معاہدہ کے آن لائن افشاء ہونے کے بعد ملک میں داخلی طور پر اس کی مخالفت کی جارہی تھی جس کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا۔ ہندوستانی حکمت عملی کے مطابق سیچلیز کے ’’جزیرہ اسمپشن‘‘ میں ایک بحری اڈہ قائم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا تاہم فوج اور سفارتی منصوبہ کا یوٹیوب پر کسی نامعلوم ذریعہ سے افشاء کردیا گیا جس پر سیچلیز کی عوام کے علاوہ اپوزیشن پارٹی نے بھی شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے ملک کی مطلق العنانی کو فروخت کردینے کا حکومت پر الزام عائد کیا۔ یاد رہیکہ ماضی میں بھی انٹرنیٹ کے ذریعہ ہوئے افشاء کے بعد ملک کے صدور بھی تبدیل ہوچکے ہیں اور اسی نوعیت کے دیگر پراجکٹس اور پالیسی فیصلہ سازی کو روک دیا گیا۔ سیکوریٹی کی کوتاہی کی یہ ایک اور مثال ہے۔