ہندوستان کو اپنے طور پر مسئلہ کشمیر کی یکسوئی کی اجازت نہیں دی جائے گی: پاکستان

اسلام آباد۔ 26؍اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام)۔ پاکستان ہندوستان کو مسئلہ کشمیر کی یکطرفہ طور پر یکسوئی کی اجازت نہیں دے گا اور اپنے قاصد مختلف ممالک کو روانہ کرے گا تاکہ انھیں ’ہندوستانی جارحیت‘ کے بارے میں واقف کروایا جائے۔ وزیراعظم پاکستان کے مشیر خارجی اُمور و قومی سلامتی سرتاج عزیز نے کہا کہ ہندوستان چاہتا ہے کہ کشمیر کے تنازعہ کو اپنے طور پر حل کرے، لیکن پاکستان، ہندوستان کی اس کوشش کو کامیاب ہونے نہیں دے گا۔ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سرتاج عزیز نے کہا کہ پاکستان کی خواہش ہے کہ وہ ہندوستان سے پُرامن تعلقات رکھے، لیکن اس خواہش کو اس کی کمزوری نہیں سمجھا جانا چاہئے۔ پاکستان بین الاقوامی فورمس میں مسئلہ کشمیر اُٹھاتا رہے گا۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ ہندوستان خط قبضہ پر امن کی خلاف ورزی کررہا ہے

اور پاکستان صرف جوابی کارروائی کررہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ حکومت اپنے قاصد اور وفود مختلف ملکوں کو روانہ کرے گی تاکہ خط قبضہ پر جنگ بندی اور انسانی حقوق کی ہندوستانی مقبوضہ کشمیر میں فوج کی جانب سے خلاف ورزیوں کی تفصیلات سے ان کو واقف کروائے۔انھوں نے کہا کہ کشمیر کے بارے میں اقوام متحدہ کی قراردادیں اب بھی کارآمد ہیں اور باہمی معاہدے ان کی جگہ نہیں لے سکتے۔ انھوں نے کہا کہ ہماری کوششیں ہیں کہ بین الاقوامی سطح پر اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین کا مشن مزید سرگرم ہوجائے۔

پاکستان پہلے ہی حالیہ مہلک جھڑپوں کے بارے میں اقوام متحدہ کے معتمد عمومی بانکی مون کو اور اقوام متحدہ کے مبصرین کو جو سرحد پر تعینات ہیں، مکتوب روانہ کرچکا ہے۔ انھوں نے اقوام متحدہ کے مبصرین سے درخواست کی کہ وہ ہندوستان کی فائرنگ سے متاثرہ دیہاتوں کا دورہ کریں جو پاکستانی سرزمین پر واقع ہیں۔