نئی دہلی۔ 9 فبروری ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) سماجی مسائل پر بڑھتے ہوئے مذہبی اثر پر فکرمندی ظاہر کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے اظہار حیرت کیا کہ ہندوستان کب تک سیکولر ملک برقرار رہے گا ۔ جبکہ یکساں سیول کوڈ اس کیلئے ضروری ہے ۔ جسٹس وکرم جیت سین نے ایک درخواست مفاد عامہ کی سماعت کرتے ہوئے پرسنل لاء کے تحت قائم عیسائی عدالتوں کو تسلیم کرنے کی خواہش ظاہر کی اور کہا کہ قانون اُس وقت تک مکمل نہیں ہوگا جب تک کہ سیول اور خاندانی معاملات جیسے طلاق ، شادی اور متبنیٰ کرنے میں پرسنل لاء کے فتوی تسلیم کئے جائیں گے ۔ بنچ میں جسٹس سی ناگپن بھی شامل تھے ۔ تاہم بنچ نے کہا کہ کیونکہ ہر مذہب کے بارے میں یہی کہا جائے گا کہ قانون کو اُن کے پرسنل لاء کے مطابق ہونا چاہئے ۔ بنچ نے مرکز کو اس درخواست پر جواب داخل کرنے کیلئے چار ہفتوں کا وقت دیا ہے ۔ بنچ نے کہا کہ ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ سیول معاملات میں مذہب کی مداخلت نہ ہو۔ جسٹس وکرم جیت سین نے کہا کہ ہندوستان ایک سیکولر ملک ہے لیکن اُنھیں پتہ نہیں یہ کب تک ایسا رہے گا ۔