ہندوستان وچین کے مابین باہمی امور پر جامع مذاکرات

نئی دہلی 8 جون ( سیاست ڈاٹ کام ) ہندوستان اور چین کے وزرائے خارجہ کے مابین آج خوشگوار اور موثر انداز میں باہمی بات چیت ہوئی جس میں باہمی تعلقات کے تقریبا تمام پہلووں بشمول متنازعہ سرحدی مسئلہ پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا ۔ نریندر مودی حکومت کے قیام کے پندرہ دن کے اندر دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ کی یہ ملاقات ہوئی ہے ۔ چین کے وزیر خارجہ مسٹر وانگ ائی اور وزیر خارجہ ہند سشما سواراج کی آج تین گھنٹوں تک ملاقات ہوئی جس میں اہم نوعیت کے باہمی مسائل پر بات چیت ہوئی ۔ وزارت خارجہ کے ترجمان نے ان مسائل کی نشاندہی نہیں کی

تاہم سمجھا جاراہ ہے کہ بات چیت میں سرحدی تنازعہ ‘ در اندازیوں ‘ مختلف زمروں کے ہندوستانیوں کو اسٹیپل ویزا کی اجرائی ‘ دریائے برہمپترا پر ڈیمس کی تعمیر اور چین کی سرمایہ کاری میں اضافہ جیسے امور کو شامل کیا گیا ہے ۔ چین کے صدر ژی جنگ پن نے وزیر خارجہ کو اپنے خصوصی قاصد کے طور پر روانہ کیا ہے تاکہ وہ ہندوستان کی نئی قیادت کے ساتھ ملاقات کرسکیں۔ وزیر خارجہ وانگ نے نئی حکومت کی ستائش کی اور کہا کہ نئی حکومت نے قدیم تہذیب ( ہندوستان ) میں نئی جان ڈالی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دنیا آج ہندوستان کے حالات پر قریبی نظر رکھی ہوئی ہے ۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہندوستان اور چین کی کوششیں کئی معاملات میں یکساں ہیں۔ وزارت خارجہ کے ایک درمیان نے سشما سواراج اور چینی وزیر خارجہ کے مابین ہوئی بات چیت کو خوشگوار ‘ کارگر ‘ تعمیری اور موثر قرار دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جہاں بات چیت میں باہمی تعلقات میں نئے عنصر شامل کرنے پر زور دیا گیا وہیں اس بات سے بھی اتفاق کیا کہ ایک دوسرے کی خواہشات اور حساسیت کا احترام بھی کیا جانا چاہئے

اور یہ باہمی تعلقات میں وسعت پیدا کرنے کیلئے ضروری ہے ۔ انہوں نے تاہم یہ وضاحت نہیں کی کہ بات چیت میں کن مسائل کا احاطہ کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بات چیت کھلے اور واضح انداز میں ہوئی ہے ۔ مسٹر وانگ آج صبح کی اولین ساعتوں میں ہندوستان پہونچے تھے اور وہ کل وزیر اعظم نریندر مودی سے بھی ملاقات کرینگے ۔ ترجمان کے بموجب چینی وزیر خارجہ نے کہا کہ ان کا ملک ہندوستان میں ہونے والی تبدیلیوں کا خیر مقدم اور ان کی تائید کرتا ہے ۔ علاوہ ازیں چین ہندوستان کی نئی حکومت کے ساتھ کام کرنے تیار ہے ۔ دونوں وزرائے خارجہ نے اس خیال کا بھی اظہار کیا کہ باہمی معاشی تعلقات میں کئی صلاحیتوں کو استعمال کرنے کی ضرورت ہے اور اس میں مزید ترقی کی گنجائش ہے ۔