اسلام آباد۔ 20 نومبر۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) پاکستان کا کہنا ہے کہ رواں ماہ 26، 27 نومبر کو نیپال میں منعقد شدنی سارک کانفرنس کے دوران ہندوستان کی جانب سے کار فراہم کرنے کی کوئی پیشکش نہیں کی گئی تو مسترد کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ واضح رہے کہ رواں ہفتے خبر سامنے آئی تھی کہ وزیر اعظم نواز شریف نے آئندہ ہفتے کٹھمنڈو میں سارک کانفرنس کے موقع پر ہندوستان کی جانب سے بلٹ پروف گاڑی استعمال کرنے کی پیشکش ٹھکرا دی ہے، جس پر نیپالی وزارت خارجہ کے ترجمان کھاگا ناتھ ادھیکاری نے کہا کہ نواز شریف اپنی گاڑی ساتھ لے کر آئیں گے جبکہ دیگر ملکوں کے سربراہوں کو ہندوستان سے برآمد شدہ گاڑیاں فراہم کی جائیں گی۔جمعرات کو دفترِ خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم کے بیان میں ان خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وزیراعظم نواز شریف 26 ، 27 نومبر کو سارک کانفرنس میں شرکت کریں گے۔ میڈیا بریفنگ کے دوران تسنیم اسلم نے کہا کہ افغان صدر اشرف غنی کا حالیہ دورۂ پاکستان کامیاب رہا۔ روسی وزیرِ دفاع کے دورۂ پاکستان کو اہم ترین قرار دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ اس سے دونوں ممالک کے مابین باہمی تعاون کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔تسنیم اسلم نے کہا کہ پاکستان اور روس کے درمیان تعاون میں اضافہ ہورہا ہے اور تعلقات میں بہتری عروج کی جانب گامزن ہے۔