مناما۔ 8 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم پاکستان نواز شریف نے آج کہاکہ ہندوستان کے ساتھ تعلقات میں بہتری کیلئے ان کی ’’مخلصانہ کوششوں‘‘ کا نئی ہندوستانی حکومت کی جانب سے جواب نہیں دیا گیا۔ بحرین کے دارالحکومت شہر میں جہاں وہ دو روزہ سرکاری دورہ پر ہیں، سمندر پار کے پاکستانیوں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ ہندوستان نے گذشتہ سال پاکستان کے ساتھ معتمد خارجہ سطح کی بات چیت اس بہانے کے ساتھ منسوخ کردی کہ پاکستانی ہائی کمشنر نے کشمیری علحدگی پسندوں سے ملاقات کی، جو انہوں نے کہا کہ 60 سال سے جاری معمول کی بات ہے۔ یہ زور دیتے ہوئے کہ پاکستان اپنے تمام پڑوسیوں کے ساتھ اچھے تعلقات کا خواہشمند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ہندوستان میں نئی حکومت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کیلئے سنجیدہ کوششیں کی ہیں لیکن کوششوں کا کوئی جواب نہیں ملا۔ ریڈیو پاکستان نے اطلاع دی کہ پاکستان میں انسداد دہشت گردی آپریشنس کے بارے میں نواز شریف نے کہا کہ دہشت گردی کا اس ملک سے صفایا کیا جائے گا اور ضرب عضب کی جارحانہ مہم اکثریت پسندی کو کچلنے تک جاری رہے گی۔
نواز شریف اور شاہ بحرین کے درمیان اہم مذاکرات
پاکستانی وزیراعظم کو بحرین کا اعلیٰ ترین سیول ایوارڈ
دریں اثناء وزیراعظم پاکستان نواز شریف نے شاہ حماد بن عیسیٰ الخلیفہ سے ملاقات کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان دو رخی معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ جیو نیوزکے مطابق نواز شریف نے سنجیرپیالیس میں شاہ حماد سے ملاقات کی ۔ اجلاس میں بحرینی وزیراعظم خلیفہ بن سلمان الخلیفہ ، ولی عہد شیخ سلمان بن حماد الخلیفہ ، بحرین کے چار نائب وزرائے اعظم ، شوریٰ کونسل اسپیکر و صدرنشین کونسل نمائندگان اور اعلیٰ سطحی کابینی وزراء نے شرکت کی ۔ اس دوران بحرین نے مہمان وزیراعظم نواز شریف کو ملک کے اعلیٰ ترین سیول ایوارڈ سے نوازا ۔ نواز شریف کو بحرین کے شاہ حماد بن عیسی الخلیفہ نے بحرین کا اعلیٰ ترین سیول ایوارڈ دوطرفہ تعلقات کے فروغ کیلئے ان کی خدمات پر عطا کیا۔