ہندوستان نے خواتین پر کبھی تحدیدات عائد نہیںکیں

نئی دہلی ۔8مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) یہ ادعا کرتے ہوئے کہ ہندوستان نے خواتین پر کبھی تحدیدات عائد نہیں کیں۔ مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے آج کہا کہ مہارانی لکشمی بائی جیسی خواتین کو تاریخ کے اوراق سے باہر نکال کر انہیں نئی نسل کیلئے سرچشمہ وجدان بنایا جانا چاہیئے ۔ وہ دہلی پولیس کی ’’ڈرنے سے انکار کریں‘‘ تقریب سے خطاب کررہے تھے جس میں تقریباً پانچ ہزار لڑکیوں نے خود حفاظتی تربیت پولیس سے حاصل کرنے کے بعد اپنی مہارتوں کا بین الاقوامی یوم خواتین کے موقع پر مظاہرہ کیا ۔

راجناتھ سنگھ کچھ دیر کیلئے جذباتی ہوگئے جب کہ اس کامیابی کیلئے انہوں نے اپنی ماں اور بیوی کو ذمہ دار قرار دیا ۔ انہوں نے ادعا کیا کہ کوئی بھی مرد عورت کے بغیر مکمل نہیں ہوتا ‘مرد کی جامہ ترقی اُسی صورت میں ممکن ہے جب کہ اس کی ماں ‘ بیوی ‘ بیٹی اور بہن اس کی مدد کریں ۔ انہوں نے کہا کہ ان کا احساس ہے کہ خود حفاظتی تربیتی پروگرام کے ذریعہ ہم تمام لڑکیوں میں خود اعتمادی بحال کرسکتے ہیں ۔ انہوں نے دہلی پولیس کی دفاعی مہارتوں کی تقریباً سالانہ 26ہزار عورتوں کو تربیت دینے کی کوشش کی ستائش کی ۔ راجناتھ سنگھ نے کہا کہ ہندوستان میں ایک روایت ہے کہ جہاں مرد ہمیشہ عورتوں کی طاقت کے آگے سرجھکاتا ہے

یہاں تک کہ اپنی دیویوں اور دیوتاؤں کے نام لیتے وقت بھی پہلے دیویوں کے نام اور بعدمیں دیوتاؤں کے نام لئے جاتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ خواتین نے اہم کردار ادا کیا ہے چاہے وہ تعلیم کے شعبہہو یا جدوجہد آزادی میں‘ انہوں نے کہا کہ ان کا احساس ہے کہ ماضی میں خواتین نے بہترین کام کیا ہے ۔ہم تاریخ کے اوراق سے انہیں منتخب کرسکتے اور اپنے بچوں کو تعلیم دے سکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنی عورتوں پر کبھی بھی پابندیاں عائد نہیں کیں۔ مہارانی لکشمی بائی کا واقعہ ممکن ہے کہ جدوجہد آزادی کا حصہ نہ ہو لیکن انہوں نے ایک نومولود بچہ اپنی پیٹھ پر باندھ کر قلعہ کی فصیل سے گھوڑے کی پیٹھ پر چھلانگ لگائی تھی ۔ راجناتھ سنگھ نے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بانکی مون کا بیان بھی دہرایا جس میں انہوں نے کہا تھا جب ہم عورتوں کی طاقت کو آزاد کرتے ہیں تو ہمیں تمام افراد کا مستقبل حاصل ہوتا ہے۔