ہندوستان میں 2030 ء تک اراضی کے انحطاط کا انسداد

نئی دہلی۔ 17 جون (سیاست ڈاٹ کام)یہ تسلیم کرتے ہوئے کہ ہندوستان کی غذائی صیانت خطرہ میں ہے کیونکہ اراضی مسلسل انحطاط کا شکار ہے ، مودی حکومت نے کہا کہ اس چیلنج کا مقابلہ کرنا اور 2030ء تک ملک کی ’اراضی کے انحطاط کو روک دینا‘ ضروری ہے۔ مرکزی وزیر ماحولیات پرکاش جاؤدیکر نے کہا کہ اراضی کے انحطاط کی تعدیل ہمارا مقصد ہے، تاکہ زمینی وسائل کو جوں کا توں برقرار رکھا جائے یا ان کی صورتِ حال بہتر بنائی جاسکے۔ اس کیلئے زمین، پانی اور حیاتیاتی تنوع کی مستقل اور مسلسل دیکھ بھال ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں ہمیں اراضی کے انحطاط ، اراضی کو بنجر چھوڑ دینا جیسے مسائل کا سامنا ہے، جن سے روزگار پر سنگین اثرات مرتب ہوتے ہیں، مودی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ غربت کا صفایا کرے گی، یہی حکومت کا بنیادی مقصد ہے اور اس مقصد کے حصول کیلئے ہمیں ملک میں اراضی کے انحطاط کو 2030ء تک روک دینے کی ضرورت ہے۔ مرکزی وزیر ماحولیات بحیثیت مہمان خصوصی ’’عالمی یوم برائے زمین بنجر ہونے کے عمل کیخلاف جنگ‘‘ کے موضوع پر خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ وزارتِ ماحولیات اور ہندوستانی قونصل برائے جنگلاتی تحقیقات اور تعلیمات کے زیراہتمام یہ دن منایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اراضی مستقبل کی امانت ہے۔ ہمیں ماحولیات کا تحفظ کرنا ہوگا اور یہی ہمارے پروگرام کا مرکزی موضوع ہے۔ انہوں نے تیقن دیا کہ وزارت ِ زراعت ، وزارت دیہی ترقیات، وزارتِ آبی وسائل اور دیگر متعلقہ وزارتوں سے تعاون کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں عوام کی شراکت داری کے ساتھ یہ جامع پروگرام طئے کیا جائے گا تاکہ زمین کے بنجر ہونے کو روکا جاسکے۔ انہوں نے پروگرام کی تفصیلات بیان کرنے کے بعد کہا کہ بی جے پی حکومت کا طریقہ کارِ مختلف ہے۔ ہم اس پروگرام کو ایک عوامی تحریک بنائیں گے۔ خاص طور پر ترقیات و تحفظِ ماحولیات میں عوام کو شامل کریں گے۔ ہم مل کر یہ کام کرسکتے ہیں۔ زمین کو بنجر ہونے سے روک سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اراضی کے انحطاط کی تعدیل، اقوام متحدہ کی کانفرنس برائے پائیدار ترقی کا نتیجہ ہے جہاں رکن ممالک نے یہ سلیم کیا ہے کہ زمین کے بنجر ہونے کے عمل کو جلد از جلد برعکس کرنا ضروری ہے۔ یہ بھی نظریہ پیش کیا گیا ہے کہ انحطاط کا شکار قدرتی اور نیم قدرتی ماحولیاتی نظاموں کا احیاء کیا جائے۔ اس مقصد سے انہیں اہم لیکن بالواسطہ طور پر عوام کی خدمات حاصل ہونی چاہئیں جو اپنی جدوجہد کے ذریعہ ناقابل کاشت زمینوں کو سبزہ زار بنا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زراعت کے قابل زمینوں اور زیر زمین قدرتی وسائل کا انحطاط اور اراضی کا بنجر ہوجانا آج درپیش سب سے بڑے چیلنج ہیں۔