نئی دہلی 9 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ اُدت راج نے ہندوستان میں ’می ٹو مہم‘ کو ایک غلط عمل قرار دیا اور 10 سال کی مدت گزرنے کے بعد کسی کے خلاف جنسی ہراسانی کے الزامات لگانے کے جواز پر سوال اُٹھایا۔ ’می ٹو تحریک‘ کا ’اسٹورم‘ (طوفان) اس ملک میں بھی شدت اختیار کرگیا ہے جہاں اب کئی خواتین تفریحی و میڈیا صنعت میں جنسی ہراسانی پر اپنے تجربات بیان کرنے لگی ہیں۔ اُدت راج نے ہندی زبان میں ٹوئٹر پر لکھا کہ ’می ٹو تحریک اہم تو ہے لیکن 10 سال بعد کسی کیخلاف جنسی ہراسانی کے الزامات عائد کرنے کا جواز اور اہمیت کیا ہے؟ اس طویل مدت کے بعد ان الزامات پر سچائی کیسے ثابت کی جاسکتی ہے؟‘‘جبکہ جنسی ہراسانی کا کوئی گواہ نہیں ہوتا اور جو افراد اس منظر کو دیکھتے ہیں وہ بھی گواہی دینے سے گریز کرتے ہیں کیونکہ انہیں پولیس کی ہراسانی کا سامنا ہوتا ہے۔