ہندوستان میں فن خطاطی کے احیاء میں ’’ سیاست ‘‘ کی کوششیں قابل تقلید

حیدرآباد ۔ 18 ۔ مئی : ( سیاست نیوز ) : سیاست نے جہاں ملک میں صحافت کو ایک بلند معیار عطا کیا وہیں ملی و قومی خدمات کے شعبہ میں اس نے ایسی نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے جس کی مثال بہت کم ملتی ہے ۔ سب سے بڑی خوشی اس بات کی ہے کہ سیاست نے ایک اخبار ہونے کے باوجود خود کوایک تحریک میں تبدیل کرلیا ہے اور یہ ایک ایسی تحریک ہے جس کے ذریعہ غریب مسلمانوں کی تعلیمی و معاشی پسماندگی دور کرنے کا بیڑا اٹھایا گیا ہے ۔ ان خیالات کا اظہار تلنگانہ اسٹیٹ الیکٹرسٹی ریگولیٹری کمیشن کے سربراہ جناب اسمعیل علی خاں نے کیا ۔ وہ ادارہ سیاست کے تحت چلائے جانے والے اداروں کا معائنہ کررہے تھے ۔ ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں کو ان کی ملی و قومی اور صحافتی خدمات کے لیے خراج تحسین پیش کرتے ہوئے جناب اسمعیل علی خاں نے یہ بھی کہا کہ سیاست نے فن خطاطی کا احیاء کرنے کی کامیاب شروعات کی ہے ۔ انہوں نے خطاطی کے نادر و نایاب نمونوں طغروں کا مشاہدہ کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان میں اس طرح کا کام صرف حیدرآباد فرخندہ بنیاد میںہی دکھائی دے رہا ہے ۔ اس موقع پر انہیں سیاست کے زیر اہتمام چلائی جارہی خطاطی کی کلاسیس کا معائنہ کروایا گیا ۔ جہاں انہوں نے استاذ خطاط جناب نعیم صابری اور طلبہ سے بات بھی کی ۔ ایم ڈی ایف کے دفتر پہنچنے پر انہیں جب بتایا گیا کہ مسلمانوں میں شادی بیاہ کی تقاریب میں بیجا رسومات کے خاتمہ کے لیے سیاست نے رشتوں کا دوبدو پروگرام شروع کیا ہے اور تاحال ان پروگرامس کے نتیجہ میں زائد از 5 ہزار رشتے طئے ہوچکے ہیں تب جناب اسمعیل علی خاں نے ایسے ہی منظم پروگرام ہندوستان کے دیگر ریاستوں اور شہروں میں بھی شروع کرنے کی ضرورت ظاہر کی ۔ انہوں نے ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں اور مینجنگ ایڈیٹر سیاست جناب ظہیر الدین علی خاں کے ہمراہ سیاست کے کمپیوٹر ٹریننگ سنٹر ، دکن ریڈیو ، آئی ٹی سیکشن وغیرہ کا بھی معائنہ کیا اور ادارہ سیاست کی تعلیمی و معاشی سرگرمیوں کے بارے میں آگاہی حاصل کی جب انہیں بتایا گیا کہ پولیس میں بھرتیوں کے لیے سیاست نے مسلم نوجوانوں کو تربیت فراہم کرنے کا سلسلہ شروع کیا جس کے نتیجہ میں 800 سے زائد مسلم نوجوانوں کی محکمہ پولیس اور فوج میں بھرتیاں عمل میں آئیں ۔ تب اس اعلیٰ عہدیدار نے حیرت اور خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یقیناً سیاست کی سرگرمیاں قابل تقلید ہیں ۔ مظفر نگر فسادات ، کشمیر میں سیلاب کی تباہ کاریوں ، گجرات فسادات میں مسلمانوں کے قتل عام کے حوالے سے بھی انہیں بتایا گیا کہ ادارہ سیاست نے ملت فنڈ کے ذریعہ متاثرین کی مالی و اخلاقی مدد میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی ۔ مظفر نگر میں متاثرین کے بچوں کے لیے دو اسکولس اور ووکیشنل سنٹرس چلائے جارہے ہیں ۔ نئی دہلی میں ملت فنڈ کے ذریعہ غریب طلبہ کے لیے کمپیوٹرس اور انگریزی بول چال کی تربیت کا انتظام کیا گیا ہے ۔ کشمیر میں بھی ایسے ہی اسکولس کھولے جانے کی تیاریاں جاری ہیں ۔۔