ہندوستان میں دلت اب بھی اچھوت!

گاؤں کے ہینڈ پمپ پر دوبارہ نظر آنے کیخلاف جان سے مار ڈالنے کی دھمکی ۔ پولیس کیس درج
چھترپور (مدھیہ پردیش ) ، 16 جون (سیاست ڈاٹ کام) ایک صدمہ انگیز واقعہ میں ایک نابالغ دلت لڑکی کو یہاں موضع گنیش پورہ میں اعلیٰ طبقہ کی خواتین نے مبینہ طور پر زدوکوب کیا جبکہ متاثرہ کا سایہ اُن کے کنبہ سے تعلق رکھنے والے ایک کسرتی شخص پر پڑگیا، پولیس نے آج یہ بات کہی۔ اڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (اے ایس پی) نیرج پانڈے نے کہا کہ یہ واقعہ 13 جون کو پیش آیا اور اسی روز گڈی ملہیرہ پولیس اسٹیشن میں شکایت بھی درج کرا دی گئی۔ لڑکی کے والد کی داخل کردہ شکایت کے مطابق یہ مسئلہ تب شروع ہوا جب اس کی بیٹی گاؤں کے ایک ہینڈ پمپ سے پانی حاصل کرنے گئی تھی اور اُس کا سایہ ( اعلیٰ طبقہ سے تعلق رکھنے والے) ورزشی بدن والے شخص پورن یادو پر پڑا جو وہاں سے گزر رہا تھا۔ اے ایس پی نے کہا کہ اس بات نے وہ شخص کی فیملی کو اس قدر مشتعل کردیا کہ خاندان کی خواتین نے دلت لڑکی کو شدید طور پر پیٹا اور دھمکی دی کہ اگر وہ ہینڈ پمپ پر دوبارہ دکھائی دی تو وہ اسے جان سے مار ڈالیں گے۔ یادو کی فیملی نے متاثرہ لڑکی کو پولیس اسٹیشن جانے سے بھی روکا، لیکن وہ کسی طرح وہاں پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔ تعزیرات ہند (آئی پی سی) کی دفعات 323، 341، 506 کے تحت ایک کیس ملزمین کے خلاف درج رجسٹر کرلیا گیا اور مزید تحقیقات جاری ہیں۔ ہندوستان کے کئی دور افتادہ گوشوں میں جہاں چھوت چھات کا ہنوز دَور دَورہ ہے، نچلی ذات کے لوگوں کا اعلیٰ ذات والوں سے کسی بھی طرح ربط میں آنا اس قدر ممنوع ہے کہ وہ ان کی غذا نہیں کھا سکتے، حتیٰ کہ اُن کی آنکھ میں آنکھ ملاکر دیکھ تک نہیں سکتے۔ اور پھر یہ بھی منع ہے کہ اُن کا سایہ اعلیٰ طبقہ والوں پر پڑجائے، جو اسے اپنی ذات پر گندگی تصور کرتے ہیں۔