2017ء میں صحافیوں پر حملوں کے 54 واقعات ، 3 ٹی وی چیانلوں پر امتناع ، امریکی وزارتِ خارجہ کی رپورٹ
واشنگٹن۔ 21 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) ٹرمپ انتظامیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ 2017ء کے دوران ہندوستان میں حکومت پر تنقید کرنے والے میڈیا اِداروں کو مبینہ طور پر دباؤ اور ہراسانی کا نشانہ بنایا گیا۔ امریکی وزارتِ خارجہ نے اپنی سالانہ انسانی حقوق رپورٹ برائے 2017ء میں کہا کہ ’’دستور (ہند) نے اظہارِ خیال کی آزادی دی ہے لیکن اس میں صحافت کی آزادی کا واضح طور پر تذکرہ نہیں کیا گیا ہے۔ حکومت (ہند) بالعموم ان حقوق کا احترام کرتی ہے، اگرچہ حکومت کے ناقد میڈیا اِداروں کو مبینہ طور پر ہراسانی و دباؤ کا نشانہ بنائے جانے کی بھی مثالیں ہیں‘‘۔ امریکی کانگریس نے دفتر خارجہ کو اس سالانہ رپورٹ دنیا بھر کے تقریباً تمام ممالک میں انسانی حقوق کی صورتحال کی تفصیلات پیش کرنے کا اختیار و ذمہ داری دی ہے۔ ہندوستان میں انسانی حقوق کی صورتحال دیگر کئی ملکوں کے مقابلے کافی بہتر ہے لیکن امریکی وزارتِ خارجہ کی رپورٹ نے بعض واقعات میں نمایاں مثالوں کا حوالہ دیا جنہیں آزادیٔ صحافت پر حملہ تصور کیا جاسکتا ہے۔ یہ رپورٹ ایک ایسے وقت منظر عام پر آئی ہے جب خود امریکی ٹرمپ انتظامیہ کو اس پر تنقید کرنے والے میڈیا اِداروں کو نشانہ بنانے کیلئے موردالزام ٹھہرایا جارہا ہے۔ امریکی وزارت خارجہ کی سالانہ رپورٹ میں ایک سینئر جرنلسٹ اور سماجی کارکن گوری لنکیش اور ٹی وی جرنلسٹ شانتنو بھومک کے قتل کے واقعات کے علاوہ صحافیوں پر حملے کے 54 واقعات، 3 ٹی وی نیوز چیانلس پر امتناع، 45 مرتبہ انٹرنیٹ خدمات کی معطلی، مختلف افراد اور اِداروں کے خلاف غداری کے 45 مقدمات کی تفصیلات پیش کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ جنوری 2016ء اور اپریل 2017ء کے دوران پیش آئے واقعات سے مجموعی طور پر ہندوستان میں گھٹتی ہوئی آزادی کا ایک ایسا احساس ہوتا ہے جو حالیہ برسوں میں نہیں دیکھا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 1990ء سے تاحال 80 صحیفہ نگار ہلاک کئے گئے لیکن صرف ایک مقدمہ میں مجرم کو سزا دی گئی۔ خاتون صحیفہ نگاروں کو ہراسانی کے بڑھتے ہوئے واقعات کا بھی اس رپورٹ میں تذکرہ کیا گیا ہے۔