ہندوستان میں بڑھتی ہوئی فرقہ پرستی کو روکنا وقت کی اہم ضرورت

سیاسی جماعتوں اور تنظیموں کو آگے آنے کا مشورہ۔ مختلف اصحاب کی پریس کانفرنس
حیدرآباد 21 مارچ (سیاست نیوز) ملک میں تیزی سے پھیل رہی فرقہ پرستی کو روکنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ چونکہ ہندوستان گزشتہ 300 یوم کے دوران زعفرانی قوتوں کی تجربہ گاہ بنتا جارہا ہے۔ ملک کے سیکولر اقدار کے تحفظ کے لئے یہ ضروری ہے کہ فرقہ وارانہ یکجہتی اور ہم آہنگی کے دعوے کرنے والی سیاسی جماعتوں و تنظیموں کے قائدین آگے آئیں تاکہ اس عظیم ملک کے اقدار کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ پروفیسر بی ایل وشویشور راؤ ترجمان ریاستی عام آدمی پارٹی، محترمہ نمرتا جیسوال کنوینر آل انڈیا سیکولر فورم (حیدرآباد چیاپٹر)، جناب علی اصغر (سماجی کارکن)، جناب ایم اے شکیل (ایچ آر ایل این)، جناب ایس کے مسعود (سنٹر فار پیس اسٹڈیز) نے آج ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران ملک کے حالات سے واقف کرواتے ہوئے مرکزی حکومت کے ذمہ داران کی جانب سے فرقہ واریت کا زہر اگلے جانے کے واقعات کی مذمت کی۔ پروفیسر پی ایل وشویشور راؤ نے اس موقع پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کے دوران کہاکہ ملک میں نریندر مودی کے اقتدار حاصل کرنے کے بعد فرقہ وارانہ تعصب میں بتدریج اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ انھوں نے کہاکہ حالیہ عرصہ میں ایسا محسوس ہونے لگا ہے کہ ہندوستان میں آزادیٔ اظہار خیال ہی نہیں بلکہ مذہبی آزادی، حق تغذیہ، حقوق انسانی و دیگر حقوق خطرے میں پڑچکے ہیں۔ پروفیسر وشویشور راؤ نے برسر اقتدار طبقہ کی جانب سے اقلیتوں میں احساس عدم تحفظ پیدا کرنے کی کوششوں کو نقصان دہ قرار دیتے ہوئے کہاکہ برسر اقتدار طبقہ عوام میں احساس تحفظ پیدا کرنے کے بجائے ان میں عدم تحفظ کا احساس پیدا کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔ اُنھوں نے بتایا کہ ملک میں رام زادے اور حرام زادے جیسے ریمارکس کبھی سننے میں نہیں آئے تھے لیکن حالیہ عرصہ میں مرکزی وزیر یہ گفتگو کررہی ہیں۔ یہی نہیں بلکہ مرکزی وزارت خارجہ کی ذمہ داری سنبھالنے والی وزیر خارجہ بھی منافرت پھیلانے کی باتیں کررہی ہیں۔ پروفیسر راؤ نے مہاراشٹرا اور ہریانہ میں بڑے گوشت پر امتناع عائد کئے جانے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ حکومتوں کا یہ اقدام حق تغذیہ میں راست مداخلت ہے۔ چونکہ اگر آپ کسی کو متبرک تصور کرتے ہوئے اسے ذبح کرنا بند کردیں تو چوہا بھی ایک دیوتا کا چہیتا رہا ہے اسے بھی نہیں مارنا چاہئے۔ اُنھوں نے مرکزی حکومت کی جانب سے حصول اراضی بل کی شدت سے مخالفت کرتے ہوئے کہاکہ حکومت اس بل کے ذریعہ اراضیات حاصل کرتے ہوئے راست عوام کو نشانہ بنارہی ہے اور سرمایہ داروں کو فائدہ پہنچانے میں مصروف ہے۔ جناب علی اصغر نے بتایا کہ ہندوستانیوں کو خوف میں مبتلا کرتے ہوئے سیاست کی جارہی ہے، اس کا رد کیا جانا ضروری ہے۔ ان انسانی حقوق تنظیموں کے قائدین نے بتایا کہ جنتر منتر پر زائداز 300 تنظیموں کے ذمہ داران بشمول صحافی، وکلاء اور سیاستداں اسی دور ظلمات کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کررہے ہیں۔ اس ریالی کا مقصد مودی حکومت کی ناکامیوں کا انکشاف کرتے ہوئے حکومت کی سرپرستی میں زعفرانی تنظیموں آر ایس ایس، بجرنگ دل، وشوا ہند پریشد، ہندو واہنی کی سرگرمیوں و نظریہ کی مذمت کرنا ہے۔ پروفیسر وشویشور راؤ نے بتایا کہ ملک کی سالمیت کے لئے وزیراعظم کو راجیہ سبھا میں بیان دینے کا وقت نہیں ہے۔ اس بات سے اندازہ ہوتا ہے کہ وزیراعظم خود ملک کے فرقہ وارانہ ڈھانچہ کو نقصان پہنچانے والوں کی بالواسطہ سرپرستی کررہے ہیں۔