٭ سود سے پاک میوچول فنڈس میں سرمایہ کاری کا موقع
٭ اڈورٹائزنگ اینڈ میڈیا، الکحل، کلوننگ، سٹہ، عریانیت،
تمباکو وغیرہ شعبوں میں رقم مشغول نہ کرنے کی طمانیت
٭ 170 ملین مسلمانوں کو راغب کرنے اور ایک بلین روپئے کے حصول کا نشانہ
نئی دہلی۔ 27 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان کے سب سے بڑے پبلک سیکٹر بینک اسٹیٹ بینک آف انڈیا (ایس بی آئی) نے آئندہ ماہ شرعیہ حصص فنڈ جاری کرنے کی تیاری کرلی ہے، اس کے ساتھ ہی ہندوستان عالم اسلام کے بعد اسلامی بینکنگ نظام متعارف کرنے والا دوسرا ملک بن جائے گا۔ ماہ جون میں برطانیہ نے اسلامک بانڈس جاری کئے تھے۔ ایس بی آئی نے یکم ڈسمبر سے اسلامک ایکویٹی فنڈ جاری کرنے کا منصوبہ بنایا ہے جس کا مقصد ملک کے 170 ملین مسلمانوں کو سرمایہ کاری کی طرف راغب کرنا ہے۔ سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا (سیبی) نے ملک کے سب سے بڑے بینک اور تین میوچول فنڈس کو شرعیہ فنڈس جاری کرنے کی اجازت دی ہے۔ ایک عہدیدار نے بتایا کہ ابتداء میں ہم ایک بلین روپئے (16.4ملین ڈالرس) سرمایہ کاری کی توقع رکھے ہوئے ہیں۔ مسلمانوں کی آبادی کا ایک بڑا حصہ موجودہ بینکنگ نظام سے خود کو قطع تعلق کئے ہوئے ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام نے ’’سود‘‘ کو حرام قرار دیا ہے۔
اسی طرح اسلام نے جن چیزوں کو حرام قرار دیا ہے، ایسے شعبوں میں سرمایہ کاری بھی نہیں کی جاسکتی چنانچہ مسلمان خود کو بینکنگ شعبہ اور بالخصوص سرمایہ کاری سے دُور رکھے ہوئے ہے۔ اس حقیقت کو پیش نظر رکھتے ہوئے ایس بی آئی نے شرعیہ ایکویٹی فنڈ کے معاملے میں یہ صراحت کی ہے کہ اس رقم کی اُن شعبوں میں سرمایہ کاری نہیں کی جائے گی، جن کی اسلام میں ممانعت ہے۔ ایس بی آئی فنڈس مینجمنٹ پرائیویٹ لمیٹیڈ نے ان شعبوں کی نشاندہی کرتے ہوئے بتایا کہ اڈورٹائزنگ اینڈ میڈیا، الکحل، کلوننگ، سٹہ، عریانیت، تمباکو وغیرہ میں مسلمانوں کا سرمایہ مشغول نہیں کیا جائے گا۔ 28 صفحات پر مبنی رپورٹ میں ایس بی آئی شرعیہ ایکویٹی فنڈ کی سرمایہ کاری کے بارے میں تمام اُمور کی صراحت کی گئی ہے اور یہ واضح کیا گیا ہے کہ رقم کو صرف ان شعبوں میں مشغول کیا جائے گا، جن کی شرعیہ بورڈ منظوری دے۔ اس رپورٹ کو موثر بنانے کیلئے مولانا خالد سیف اللہ رحمانی جنرل سیکریٹری اسلامک فقہ اکیڈیمی و رکن آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے جاری کردہ فتویٰ کی نقل بھی منسلک کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مولانا مفتی شعیب اللہ خان بانی و ناظم جامعہ اسلامیہ مسیح العلوم و رکن اسلامک انویسٹمنٹ فینانس بورڈ کا جاری کردہ فتویٰ بھی منسلک کیا گیا ہے۔
ایس بی آئی کے اس اقدام کا مقصد مسلمانوں کو سرمایہ کاری کی سمت راغب کرنا ہے اور یہ طمانیت فراہم کرنا ہے کہ ان کی رقم اسلامی اصولوں کے مطابق مشغول کی جارہی ہے۔ یہ بات بھی خاص طور پر نوٹ کی گئی ہے کہ 2008ء میں عالمی معاشی بحران کے دوران اسلامی بینکس زیادہ متاثر نہیں ہوئے تھے چنانچہ ہندوستان میں بھی اس نظام کو متعارف کرنے کا منصوبہ بنایا گیا۔ سب سے پہلے جنوری 2014ء میں اس وقت کے وزیر اقلیتی اُمور کے رحمن خان نے ہندوستان میں شرعی میوچول فنڈس کے بارے میں غوروخوض کا اشارہ دیا تھا اور ایس بی آئی کو اس ضمن میں رپورٹ تیار کرنے کی ہدایت دی تھی۔ مسلم طبقہ نے ایس بی آئی کے اس اقدام کا خیرمقدم کیا ہے۔ جنرل سیکریٹری انڈین سنٹر فار اسلامک فینانس عبدالرقیب نے کہا کہ مسلمانوں کو بینکنگ شعبہ میں متبادل راستہ فراہم ہوگا اور وہ سود کی لعنت سے محفوظ رہیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کا موقع بھی فراہم ہوگا۔