واشنگٹن ۔ 16ڈسمبر۔( سیاست ڈاٹ کام ) ہندوستان سے بیرون ممالک منتقل کیا جانے والا کالا دھن اب ایک عفریت کی شکل اختیار کرگیا ہے جہاں اس کی منتقلی میں ایک یا دو گنا نہیں بلکہ 9 گنا اضافہ ہوچکا ہے جیسا کہ 2003 ء میں اس کا تخمینہ 10 بلین ڈالرس لگایا گیا تھا جو 2012ء تک 94.7 بلین ڈالرس تک پہنچ گیا۔ ’’الیسیٹ فینانششیل فلوز فرام ڈیولپنگ کنٹریز‘‘ کے عنوان سے تیار کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق ہندوستان نے کالے دھن بیرونی ممالک منتقل کئے جانے کے معاملہ میں ملائیشیا سے چوتھا مقام چھین لیا ہے ۔ یہ تجزیہ 2013 ء تا 2012 ء کے دوران کیا گیا تھا اور اول نمبر پر چین ، دوسرے نمبر پر روس اور تیسرے نمبر پر میکسیکو کے نام درج کئے گئے ہیں۔ 2012 ء میں ایک ایسا وقت بھی آیا جب ہندوستان نے میکسیکو سے تیسرا مقام حاصل کرلیا تھا ۔ مذکورہ رپورٹ کو واشنگٹن میں جاری کیا گیا ہے جس کی تیاری وہاں کے ریسرچ اینڈ ایڈوکیسی گروپ گلوبل فینانشیل انٹیگریٹی (GFI) نے کی ہے ۔ 2003 ء میں ہندوستان نے بیرون ممالک کو 10.17 بلین ڈالرس کا کالا دھن بھیجا جوکہ 2004 ء میں بڑھ کر 19.41 بلین امریکی ڈالرس اور 2005 ء میں 20 بلین امریکی ڈالرس تک پہنچ گیا ۔