ہندوستان دنیا کے پرتشدد ترین 20 ممالک میں سے ایک

نئی دہلی 18 جون (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان دنیا کے 20 انتہائی پرتشدد مقامات میں سے ایک ہے۔ ایک عالمی مطالعہ کے بموجب ملک کی معیشت کو ایک لاکھ کروڑ روپئے سے زیادہ رقم گزشتہ سال تشدد کے واقعات سے نمٹنے اور اُن پر قابو پانے کے لئے خرچ کرنی پڑی۔ گلوبل پیس انڈیکس (جی پی آئی) کی تازہ ترین اشاعت میں ہندوستان کو امن کے اعتبار سے دنیا بھر میں 143 واں مقام حاصل ہوا ہے۔ جبکہ سروے 162 ممالک میں کیا گیا تھا۔ مبینہ طور پر ہندوستان سابقہ مقام سے دو مقامات نیچے پہونچ گیا جبکہ آئس لینڈ دنیا کے انتہائی پرامن مقام کی حیثیت سے اب بھی سرفہرست ہے۔ شام نے انتہائی پرتشدد مقام کے لحاظ سے افغانستان کی جگہ لے لی ہے۔

ہندوستان کی تشدد کی سطحوں سے نمٹنے اور اُن پر قابو پانے کے اخراجات ہندوستانی معیشت پر بھی اثرانداز ہوئے ہیں۔ قومی معیشت کا 177 ارب امریکی ڈالر رقم 2013 ء میں خرچ کی گئی ہے جو 1.07 لاکھ کروڑ روپئے کے مساوی ہوتی ہے۔ سڈنی کے بین الاقوامی دانشوروں کے ادارہ برائے معاشیات و امن نے اپنی رپورٹ میں مزید کہاکہ یہ رقم ہندوستان کی جی ڈی پی کی 3.6 فیصد کے مساوی ہے۔ فی کس 145 امریکی ڈالر تشدد پر قابو پانے میں خرچ کئے گئے ہیں۔ تشدد کے عالمی معیشت پر اثرات کا تخمینہ 9 کھرب 80 ارب امریکی ڈالر یا عالمی جی ڈی پی کا 11.3 فیصد 2013 ء میں خرچ کیا گیا۔

یہ خرچ 2012 ء کی بہ نسبت 179 ارب امریکی ڈالر زیادہ تھا۔ یہ اضافہ زیادہ تر چین کے فوجی اخراجات اور داخلی تنازعات کی شدت اور اُن کی تعداد کی وجہ سے ہوا۔ جنوبی ایشیاء میں بھوٹان انتہائی پرامن ملک قرار دیا گیا۔ اِس اعتبار سے دوسرے مقام پر نیپال، تیسرے مقام پر بنگلہ دیش اور چوتھے مقام پر سری لنکا ہے۔ ہندوستان صرف پانچواں مقام حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔ تاہم یہ پاکستان اور افغانستان سے بہتر ہے جنھیں چھٹواں اور ساتواں مقام حاصل ہوا ہے۔ عالمی اعتبار سے پاکستان کا مقام 154 واں اور افغانستان کا 161 واں ہے۔

رپورٹ کے بموجب ہندوستان بین الاقوامی کشیدگی اور داخلی بڑے پیمانے کے تنازعات کا دیرینہ شکار ہے۔ ماؤسٹ تحریکیں ہندوستان کی داخلی سلامتی کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔ پڑوسی ممالک کے ساتھ اس کے بار بار تنازعات سے بھی ملک کی بیرونی سلامتی کو خطرہ پیدا ہوتا ہے۔ ہندوستان عالمی دہشت گردی کے عشاریہ کے اعتبار سے 159 ممالک میں چوتھے مقام پر ہے۔ اگر ہندوستان بحیثیت مجموعی امن کی سطحوں کو بہتر بناسکے تو اِس کا فائدہ ملک کی معاشی شرح ترقی میں ٹھوس بہتری کے طور پر ظاہر ہوسکتا ہے۔ جی پی آئی دنیا کی صف اول کی تنظیم ہے جو دنیا بھر کے پرامن ممالک کے ہر سال سروے کے بعد اُن کے نتائج کی اشاعت کرتی ہے۔