ممبئی ۔ /17 اگست (سیاست ڈاٹ کام) آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت نے آج یہ کہتے ہوئے ایک اور تنازعہ کھڑا کردیا ہے کہ ہندوستان ایک ہندو مملکت ہے اور ہندوتوا اس کی شناخت ہے ۔ہندو ازم دیگر تمام مذاہب کو اپنے اندر شامل کرسکتا ہے ۔ گزشتہ ہفتہ انہوں نے کٹک میں یہ کہا تھا کہ تمام ہندوستانیوں کی تہذیبی شناخت ہندوتوا سے ہے اور ملک کے موجودہ تمام لوگ اسی عظیم ثقافت کا حصہ ہیں ۔ انہوں نے کہا تھا کہ اگر انگلینڈ میں پیدا ہونے والے انگریز ہیں ، جرمنی میں پیدا ہونے والے جرمن اور امریکہ میں پیدا ہونے والے امریکی تو پھر ہندوستان میں پیدا ہونے والے ہندو کیوں نہیں ہوتے ۔ موہن بھاگوت نے آج کرشنا جنم اشٹمی کے موقعہ پر ممبئی میں وی ایچ پی کی گولڈن جوبلی تقاریب کے افتتاحی پروگرام میں حصہ لیا ۔ انہوں نے کہا کہ وی ایچ پی کا یہ مقصد ہے کہ آئندہ پانچ سال میں ملک کے تمام ہندوؤں میں مساوات کو یقینی بنایا جائے ۔ تمام ہندوؤں کو ایک ہی مقام پر پانی پینے کی اجازت ہونی چاہیے ۔ وہ ایک ہی مقام پر پوجا کریں اور مرنے کے بعد ایک ہی مقام پر ان کی آخری رسومات ادا کی جائے ۔ وی ایچ پی سربراہ پروین توگاڑیہ نے جو اس موقعہ پر موجود تھے ، رام مندر مسئلہ پر پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ ایودھیا میں ایک بڑا رام مندر بہرصورت تعمیر ہوگا ۔ یہ ہمارے ایجنڈے میں اس وقت تک رہے گا جب تک اسے تعمیر نہیں کیا جاتا ۔ توگاڑیہ نے کہا کہ پاکستان جب تک ہندوستان کو مطلوب افراد حوالے نہیں کرتا تب تک امن پیشرفت نہیں ہوسکتی ۔