’’ہندوستان اور چین ایک اور ڈوکلم کو برداشت نہیں کرسکتے ‘‘

فریقوں کو امن و بھائی چارہ برقرار کھنے کا پائیدار حل ڈھونڈنا چاہئے۔ شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن مفید پلیٹ فارم : چینی قاصد

نئی دہلی ۔ 18 جون (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان اور چین کے درمیان باہمی روابط ڈوکلم جیسے ایک اور واقعہ کو برداشت کرنے کے متحمل نہیں ہوسکتے ہیں، چینی قاصد برائے ہند لو ژاو ہوی نے آج یہ بات کہی اور زور دیا کہ سرحدی مسئلہ کے بارے میں خصوصی نمائندوں کی میٹنگ کے ذریعہ باہمی طور پر قابل قبول کوئی حل ڈھونڈ نکالنے کی ضرورت ہے۔ چینی قاصد نے کہا کہ بعض ہندوستانی دوستوں نے کہا تھا کہ ہندوستان، چین اور پاکستان پر مشتمل سہ رخی تعاون شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن (ایس سی او) کے بیانر تلے ہونے چاہئے جو واقع تعمیری تجویز ہے۔ وہ یہاں چینی سفارتخانہ کے زیراہتمام ایک ایونٹ سے کلیدی خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ سیکوریٹی تعاون ایس سی او کے تین ستونوں میں سے ہے۔ بعض ہندوستانی دوستوں نے تجویز پیش کی ہیکہ چین، ہندوستان اور پاکستان ایس سی او کے تحت کسی نہ کسی نوعیت کا سہ رخی تعاون استوار کرسکتے ہیں۔ اس سوال پر کہ آیا ہند ۔ پاکستان تنازعہ کو حل کرنے میں ایشیائی پڑوسیوں کے درمیان سہ رخی بات چیت سے مدد ملے گی، انہوں نے کہا کہ وہ شخصی طور پر اسے کافی اچھی اور تعمیری تجویز سمجھتے ہیں۔ ہوسکتا ہے ابھی ایسا کرنا ممکن نہ ہو لیکن مستقبل میں ایسا ہوسکتا ہے اور یہ بہت اچھا خیال ہے۔ اس سے باہمی مسائل کو حل کرنے اور امن و بھائی چارہ کو برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔ چین اور ہندوستان کے باہمی روابط کے بارے میں اظہارخیال کرتے ہوئے قاصد نے کہا کہ پڑوسیوں کے ساتھ اختلافات ہونا فطری بات ہے لیکن انہیں قابو میں رکھنے اور باہمی تعاون کے ذریعہ کامیاب ہوکر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعاون کو وسعت دیتے ہوئے اختلافات کو کم سے کم کرنا چاہئے۔ تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ اختلافات بالکلیہ ختم ہوجائیں گے۔ ہمارے دونوں ملکوں کے درمیان سرحدی تنازعہ تاریخ کی وجہ سے ہنوز پایا جاتا ہے۔ ہمیں خصوصی نمائندوں کی میٹنگ کے ذریعہ باہمی طور پر قابل قبول کوئی حل ڈھونڈ نکالنے کی ضرورت ہے جبکہ اعتماد سازی اقدامات کرتے ہوئے سرحد کے پاس امن و بھائی چارہ برقرار رکھا جائے۔ ہم ایک اور ڈوکلم کے متحمل نہیں ہوسکتے ہیں۔ ہندوستانی اور چینی فوجی دستے گذشتہ سال جون تا اگست کے درمیان ہندوستان، بھوٹان اور چین کے سہ رخی جنکشن ڈوکلم کے پاس 73 روزہ تعطل میں پھنسے رہے تھے۔ چینی قاصد نے یہ بھی تجویز رکھی کہ ہندوستان اور چین کو دوستی و تعاون کے معاہدہ پر دستخط کے بارے میں سوچنا چاہئے۔