نیویارک ۔ 12 اپریل ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) اب جبکہ ہندوستان میں لوک سبھا انتخابات کا عمل جاری ہے وہیں ہندوستان کے ایک بہترین اور نوجوان ناول نگار چیتن بھگت نے ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستانی نوجوانوں میں آج سیاسی سوجھ بوجھ کی کوئی کمی نہیں ہے اور اُن میں یہ صلاحیت ہے کہ وہ کسی بھی ناکارہ اور غیرکارکرد پارٹی کی حکومت کو تبدیل کرسکتے ہیں۔ ’’تو نہیں اور سہی ، اور نہیں اور سہی ‘‘ کے مصداق آج کے نوجوان سیاسی طورپر اتنے بیدار ہیں کہ کوئی بھی سیاسی پارٹی اگر برسراقتدار آتی ہے تو وہ نوجوان طبقہ کی جانب سے ’’جوابدہ‘‘ ہوئے بغیر نہیں رہ سکتی ۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہنا بہتر ہوگا کہ کوئی بھی حکومت اب نوجوانوں کو نظرانداز نہیں کرسکتی ۔
ماقبل انتخابات جو وعدہ کئے گئے ہیں ، اُن کی تکمیل ضروری ہے۔ انھوں نے کہا کہ سوشیل میڈیا پر آج نوجوان طبقہ سیاسی پارٹیوں اور سیاسی قائدین سے متعلق اپنی آراء کا بیباکی سے اظہار کرتا ہے ۔ چیتن بھگت یہاں اپنی ہی کتاب ’’2 اسٹیٹس‘‘ پر بنائی گئی اسی نام کی فلم کے پروموشن کے لئے امریکہ میں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ گزشتہ انتخابات میں بدعنوانی اور معاشی فروغ انتخابی مدّعے نہیں تھے لیکن آج نوجوان طبقہ کی سیاسی سوجھ بوجھ کی وجہ سے ہی بدعنوانی اور معاشی فروغ انتخابی مدّعے بن چکے ہیں اور جو بھی پارٹی بدعنوانیوں کے خاتمہ اور معاشی فروغ کو یقینی بنائے گی ، اُسے کامیابی ملے گی ۔