چیانل پر خصوصی پروگرام کی نشریات ، کارٹونس کو دکھانے کا مقصد اسلام کے منہ پر طمانچہ مارنا ہے کا ادعاء
حیدرآباد /8 جنوری ( سیاست نیوز ) فرانس میں گستاخانہ کارٹونس کی اشاعت میں ملوث کارٹونسٹ و جریدے کے ایڈیٹر کو قتل کئے جانے کے واقعہ کے ساتھ ہی دنیا بھر سے ایک کہر مخالف مسلم و مخالف اسلام پھیلانے کی کوشش کی جارہی ہے اور اس کوشش کے تحت ایک ہندوستانی قومی چیانل نے بھی نہ صرف بارہا شائع شدہ کارٹون کو دکھایا بلکہ 7 جنوری کی راست چلائی گئے خصوصی شو میں اس بات کی اپیل ذرائع ابلاغ اداروں سے کی جاتی رہی کہ وہ ذرائع ابلاغ پر ہونے والے اس حملہ کے خلاف ان کارٹونوں کو شائع کرتے ہوئے ا حتجاج درج کروائیں ۔ شان رسالت مآب ؐ میں کی جانے والی اس گستاخی کے ساتھ ساتھ مختلف ذرائع ابلاغ اداروں نے بے بنیاد منطقیں و الزامات عائد کرنے کا لامتناہی سلسلہ شروع کردیا اور اس حملہ کے خلاف ردعمل کے اظہار میں اسلام اور مسلمانوں کو نشانہ بنایا جانے لگا ۔ فرانسیسی زبان میں کارٹون پر موجود غریبوں سے عدم واقفیت کے باعث لوگ ان گستاخانہ کارٹونوں کو آگے بڑھانے سے بھی گریز نہیں کر رہے تھے ۔ بلکہ ان کارٹونوں کی تشہیر کے راست یا بالواسطہ موجب بنتے نظر آئے ۔ ملک کے ایک قومی نیوز چیانل نے اپنے خصوصی پروگرام کے دوران فرانس میں موجود ہندوستانی صحیفہ نگار سے بات چیت کرتے ہوئے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ وہ درحقیقت کسی کو مشتعل نہیں کر رہا ہے بلکہ حقائق سے واقف کروانے کیلئے یہ کارٹون دکھائے جارہے ہیں ۔ فرانس کے جریدہ چارلی ہیبڈو پر ہوئے حملہ کی مختلف گوشوں کی جانب سے مذمت یا پھر وجوہات کو حقیقی انداز میں پیش کرنے کے بجائے چیانل پر موجود اینکر اور ایک صحیفہ نگار نے یہاں تک کہہ دیا کہ ان کارٹونس کو دکھانے کا مقصد اسلام کے منہ پر طمانچہ مارنا ہے ‘‘ ہندوستانی ٹی وی رپورٹر اور اینکر کی جانب سے کی گئی اس ببانگ دہل دلازاری کا بہت کم نوٹ لیا گیا ۔ قومی ٹی وی چینل پر کارٹون دکھانا اور ان کارٹنوں کے ذریعہ اشتعال انگیز کرنا ہندوستانی قوانین کے اعتبار سے سنگین جرم ہے اور اس قومی ٹیلی ویژن چیانل کی جانب سے قوانین کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے ہندوستان جیسے سیکولر ملک میں برسر عام زہر افشانی کی ہے ۔ فرانسیسی جریدے پر ہوئے اس حملہ کے وجوہات کیا ہیں یہ دنیا پر واضح ہوچکا ہے لیکن اس کے باوجود عالم اسلام کو چراغ پاکر نے کیلئے کی جانے والی اس طرح کی حرکات سے نہ صرف چوکنا رہنے کی ضرورت ہے بلکہ اس طرح کے اقدامات کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرتے ہوئے ملک کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو برقرار رکھنے کے اقدامات کی ضرورت ہے ۔ جریدے پر ہوئے حملہ کا مختلف گوشوں کی جانب سے مختلف نظریہ اخذ کیا گیا ہے لیکن اس جریدے میں شائع گستخانہ کارٹونس کو مختلف گوشے اپنے مقاصد کے حصول کیلئے استعمال کر رہے ہیں ۔