اسلام آباد۔ 23 اکتوبر (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان کی پارلیمنٹ نے آج متفقہ طور پر مبینہ ’’بلااشتعال اور اندھادھند‘‘ جنگ بندی کی ہندوستان کی جانب سے خلاف ورزیوں پر ایک قرارداد منظور کی اور حکومت سے خواہش کی کہ مسئلہ کشمیر کی یکسوئی کیلئے اقوام متحدہ کی مداخلت کی خواہش کی جائے۔ یہ قرارداد وزیراعظم پاکستان نواز شریف کے مشیر برائے اُمور خارجہ سرتاج عزیز نے پیش کی جس میں کہا گیا ہے کہ قومی اسمبلی ہندوستان کی جانب سے خط قبضہ اور بین الاقوامی سرحد پر مبینہ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کی سخت مذمت کرتی ہے کیونکہ یہ بلااشتعال اور اندھادھند خلاف ورزیاں ہیں جن سے انسانی جانیں اور جائیداد کا نقصان ہوا ہے۔ 13 پاکستانی شہری 13 ستمبر سے اب تک فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہوچکے ہیں۔
قرارداد میں کہا گیا ہے کہ حکومت سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ ہندوستان کے ساتھ باہمی مذاکرات کے موقع پر مسئلہ کشمیر بھی اٹھایا جائے۔ بین الاقوامی برادری سے خواہش کی جائے کہ اس مسئلہ کی یکسوئی کے لئے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مداخلت کریں۔ ہندوستان کو پاکستان کی امن کی خواہش کو کمزوری نہیں سمجھنا چاہئے۔ پاکستان موثر جواب دے سکتا ہے۔ دونوں ممالک نیوکلیئر طاقتیں ہیں چنانچہ انہیں کسی بھی قسم کی غلط مہم جوئی سے گریز کرنا چاہئے۔ ایوان نے بھی کشمیری عوام کے حالت زار پر فکرمندی ظاہر کی ہے جو ’’ہندوستانی مقبوضہ کشمیر ‘‘ میں مقیم ہیں۔
دریں اثناء دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے الزام عائد کیا کہ ہندوستانی فوج بلااشتعال فائرنگ میں ملوث ہے۔ اس نے بین الاقوامی سرحد سے 500 میٹر کے اندر تہہ خانے تعمیر کرلئے ہیں۔ تہہ خانوں کی یہ تعمیر بھی 2010ء کے ہند ۔ پاک معاہدہ کی خلاف ورزی ہے۔ پاکستان ایسی تعمیرات کی کبھی اجازت نہیں دے گا۔ تسنیم اسلم نے کہا کہ یہ معاہدہ ایسی کسی بھی تعمیر بشمول تہہ خانوں کی تعمیر کی بین الاقوامی سرحد کے دونوں جانب 500 میٹر کے اندر اجازت نہیں دیتا۔ پاکستانی صوبہ پنجاب کی اسمبلی نے بھی کل متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی تھی جس میں ہندوستان کی مبینہ جارحیت کی مذمت کی گئی تھی۔