ہندوستانیوں کے عنقریب اچھے دن : پرینکا چترویدی

مودی حکومت کیخلاف تحریک عدم اعتجماد سے سیاسی چہرے آشکار، قومی ترجمان کانگریس کا بیان
حیدرآباد۔22جولائی (سیاست نیوز) حکومت کے خلاف ناکام ہونے والی تحریک عدم اعتماد سے وزیر اعظم نریندر مودی کے اچھے دن تو ثابت ہو رہے ہیں لیکن اب یہ اچھے دن طویل مدت تک باقی رہنے والے نہیں ہیں اور ہندستانیوں کے اچھے دن آنے کے امکانات میں بھی اضافہ ہوچکا ہے۔گذشتہ دنوں این ڈی اے حکومت کے خلاف تلگودیشم پارٹی کی تحریک عدم اعتماد کے دوران اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی در پردہ تائید کرنے والی سیاسی جماعتوں کے چہروں پر موجود نقاب الٹنے کے بعد عوام میں یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ حکومت ہند کو کن سیاسی جماعتوں کی خاموش تائید حاصل ہے اور کونسی سیاسی جماعتیں ریاستی سطح پر بی جے پی کی خاموش تائید کرنے والی سیاسی جماعتوں کی حلیف بنی ہوئی ہیں۔ حکومت ہند کے خلاف پیش کردہ تحریک عدم اعتماد ملک کی تاریخ کی 27ویں تحریک عدم اعتماد ہے اور یہ 15سال بعد کسی حکومت کے خلاف پیش کی گئی ہے ۔ اس سے قبل 2003 میں اٹل بہاری واجپائی حکومت کے خلاف تحریک پیش کی گئی تھی۔محترمہ پرینکا چترویدی قومی ترجمان کانگریس کا کہناہے کہ نریندر مودی حکومت کے خلاف پیش کی گئی تحریک عدم اعتماد کو لوک سبھا میں تو شکست ہوئی ہے لیکن تحریک عدم اعتماد کے دوران ہونے والے مباحث نے ہندستانیوں کو اس بات کا احساس دلایا ہے کہ 2014 سے اب تک مودی حکومت کی جانب سے کس طرح دھوکہ دہی کی گئی ہے۔ حکومت ہند کی جانب سے کی جانے والی دھوکہ دہی کو آشکارکرنے میں اپوزیشن جماعتوں نے کوئی دقیقہ نہیں چھوڑا ہے اور اپوزیشن قائدین کی جانب سے جو سوالات اٹھائے گئے ہیں ان کے جواب دینے سے نریندر مودی قاصر رہے ہیں۔ 2014سے اب تک وزیر اعظم نے 84ممالک کے دورے کئے ہیں اوران سے حاصل ہونے والے فائدہ کے متعلق کئے جانے والے سوالات کے سلسلہ میں حکومت کی جانب سے کوئی مؤثر جواب نہیں دیا جاسکا اور نہ ہی اس بات کو ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ وزیر اعظم کے بیرونی دورہ ملک کے لئے کارآمد ثابت ہوئے ہیں۔ نریندر مودی واحد ایسے ہندستانی وزیر اعظم ہیں جو بن بلائے پاکستان پہنچے اور بغیر کسی منصوبہ اور حکمت عملی کے ساتھ چین کا دورہ کئے ہیں۔