ممبئی ۔ 18 جون (سیاست ڈاٹ کام) ایک رپورٹ کے مطابق ہندوستانی ڈیجیٹل ترقی میں جس تیزی سے گامزن ہیں وہیں پر وہ مالیاتی دھوکہ دہی کا بھی زیادہ شکار ہو رہے ہیں۔ ہر چار گاہکوں میں ایک گاہک آن لائن دھوکہ دہی کا شکار ہو ہی جاتا ہے۔ گلوبل فینانشیل انفارمیشن کمپنی کی ایک رپورٹ کے مطابق 24 فیصد ہندوستانی راست طور پر آن لائن دھوکہ دہی کا شکار ہوتے ہیں۔ ان دھوکہ دہیوں میں نمایاں نام ٹیلکو 57 فیصد، بینکس 54 فیصد اور ٹھوک بیوپاری 46 فیصد سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ مزید برآں 50 فیصد ہندوستانی اپنے ڈیٹا کو بینکس کے ساتھ بانٹنے میں مطمئن ہیں اور سب سے کم یعنی 30 فیصد ہندوستانی مشہور برانڈیڈ ٹھوک بیوپاری کے ساتھ اس کے علاوہ اوسطاً 65 فیصد گاہک موبائیل ادائیگیوں کو ترجیح دیتے ہیں۔ ہندوستان میں صرف چھ فیصد گاہک اپنے شخصی تفصیلات کو کسی سے بھی باٹنا نہیں چاہتے اس کے بعد جاپان کا نمبر آتا ہے جہاں پر 8 فیصد شہری اپنی شخصی تفصیلات کو راز میں رکھنا چاہتیہ یں۔ گاہکوں کی شخصی تفصیلات کو سب سے زیادہ الیکٹرانکس اور ٹراویل ایجنسیز اکھٹا کرتے ہیں جس سے ان شعبہ جات میں دھوکہ دہی کے زیادہ واقعات ہوسکتے ہیں۔ ایشیاء پیسیفک خطہ میں ہندوستان میں وہ واحد ملک ہے جہاں پر 90 فیصد گاہک ڈیجیٹل لین دین کو ترجیح دیتے ہیں۔