شنگھائی۔16مئی ( سیاست ڈاٹ کام ) وزیراعظم نریندر مودی کے دورہ چین کو ہر لحاظ سے ایک کامیاب دورہ تصور کیا جارہا ہے ‘ جہاں ایک دو نہیں بلکہ پورے 26 معاہدوں پر دستخط ہوئے ہیں ۔ ہندوستانی کمپنیاں چینی کمپنیوں کے ساتھ تجارتی معاہدہ کرنے کیلئے عرصہ دراز سے بے چین تھیں ۔ ہندوستان کے اڈنانی گروپ ‘ بھارتی ایئر ٹیل ‘ ویلسپن اور ان کی چینی ہم منصب نے مودی کے دورہ کے آخری روز معاہدوں پر دستخط کر کے ایک نئی تاریخ رقم کی جن کے ذریعہ دونوں ممالک کی صنعتوں کو فروغ حاصل ہوگا ۔ بشمول قابل تجدید توانائی ‘ پاور ‘ انفراسٹرکچر ‘ اسٹیل (فولاد ) اور چھوٹی اور درمیانی درجہ کی صنعتیں ‘ کچھ دیگر معاہدوں میں مندرجہ ذیل معاہدے اہمیت کے حامل ہیں اور جیسے حکومت اور میونسپلٹیز کے درمیان باہمی تعاون انڈیا ۔ چائنا اسٹیٹ لیڈرس فورم کی تشکیل ‘ سسٹر اسٹیٹس شیزوان اور کرناٹک کی تشکیل ‘ تلنگانہ کے شہر حیدرآباد اور چین شہر گنگوڈاؤ کے درمیان سسٹرسٹیز کا قیام اور ساتھ ہی ساتھ مہاراشٹرا کے شہر اورنگ آباد اور چینی شہر ڈون ہوانگ کے درمیان سسٹر سٹیز کا قیام ‘ دیگر اہم کمپنیوں میںانفوسیس ‘ بھوشن پاور اینڈ اسٹیل کے نام قابل ذکر ہیں ۔