20 سال کے بعد پارٹی تلنگانہ کو سنبھالنے کی ذمہ داری دی ہے،ملک کی حفاظت کے بعد عوام کی خدمت ہماری زندگی کا واحد مقصد
پدماوتی ریڈی سے نعیم وجاہت کی بات چیت
تلنگانہ میں فی الوقت ایک سیاسی جوڑا اپنی انسانیت نوازی کے لیے کافی شہرت رکھتا ہے ۔ اس جوڑے کی خاص بات یہ ہے کہ وہ بلا لحاظ مذہب و ملت عوامی خدمات پر یقین رکھتا ہے اور عوامی خدمات کو ہی اپنا نصب العین بنا چکا ہے ۔ یہ دونوں میاں بیوی تلنگانہ کو رشوت خوری ، بدعنوانی اور ذات پات کی سیاست سے پاک کرنے میں سرگرم ہیں ۔ ہماری مراد صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی این اتم کمار ریڈی اور ان کی شریک حیات پدماوتی ریڈی سے ہے جو حضور نگر اور کوداڑ اسمبلی حلقوں کی نمائندگی کرتے ہیں ۔ جیسا کہ یہ محاورہ ’ ہر کامیاب شخص کے پیچھے عورت کا ہاتھ ہوتا ہے ‘ ۔ پدماوتی ریڈی اور اتم کمارریڈی پر صادق آتا ہے ۔ فوجی زندگی سے علحدہ ہونے کے بعد اتم کمار ریڈی نے جس انداز میں تلنگانہ کانگریس میں ایک نئی روح پھونکی ہے ۔ اس میں پدماوتی ریڈی کا اہم رول ہے ۔ آرکیٹکچر گریجویٹ ہونے کے باعث پدماوتی کو عمارتوں کی تعمیر ، اس کے بنیادوں کی پختگی ، ڈیزائن اور نقوش کی تیاری پر کافی عبور رکھتی ہیں ۔ وہ تجربات قوم کی تعمیر کے لیے نمایاں ثابت ہوسکتے ہیں جس پر ان کی گہری نظر ہے ۔ اپنے شوہر کیپٹن اتم کمار ریڈی کے ساتھ مل کر تلنگانہ کو خوشحال ، ترقی یافتہ پرامن اور مثالی ریاست کی تعمیر میں مصروف ہے اور وہ پہلی مرتبہ 2014 میں 13,374 ووٹوں کی اکثریت سے کامیابی حاصل کی ہے ۔ قارئین کے لیے روزنامہ سیاست نے پدماوتی ریڈی کا انٹرویو کیا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اور اتم کمار ریڈی ایک دوسرے کو بچپن سے جانتے ہیں کیوں کہ دونوں کے والد ایک دوسرے کے اچھے دوست تھے ۔ 15 سال کی عمر میں اتم کمار ریڈی ایر فورس میں شامل ہوگئے اور وہ ہاسٹل میں رہ کر پڑھائی کرتے ہوئے آرکیٹکٹ بن گئی ۔ دونوں خاندانوں کی آپسی رضا مندی سے ان کی شادی ہوئی ۔ اتم کمار ریڈی کا ملک کے 10 اہم پائیلٹس میں شمار ہوتا تھا وہ ملک کے سرحدوں کی حفاظت کرتے ہوئے ایک مرتبہ ایرکرافٹ حادثہ کا شکار ہوچکے ہیں ۔ وہ چاہتے ہیں تو اپنی جان بچانے کے لیے طیارے کو آبادی میں اتار سکتے تھے مگر انہوں نے عام افراد کی جان بچانے کے لیے اپنی جان کو خطرہ میں ڈال دی اور طیارے کو شہری علاقے سے دور اُتار دیا جس میں وہ زخمی بھی ہوئے تھے بعد ازاں وہ راشٹرا پتی بھون میں صدر جمہوریہ کے اے ڈی سی کی حیثیت سے خدمات انجام دی ۔ اس وقت وینکٹ رامن صدر جمہوریہ ہند تھے ۔ ملک کی خدمات انجام دینے کے بعد عوامی خدمات انجام دینے کا فیصلہ کیا ۔ وینکٹ رامن کی سفارش پر انہیں ضلع نلگنڈہ میں تلگو دیشم کے گڑھ میں ٹکٹ دیا گیا مگر اپنے پہلے الیکشن میں شکست سے دچار ہونے والے اتم کمار ریڈی نے کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا ۔ پدماوتی ریڈی نے کہا کہ انہیں کوئی بچے نہیں ہے بلکہ ہمارے لیے اسمبلی حلقہ جات حضور نگر اور کوداڑ ہی ہمارے دو بچے ہیں ۔۔پدماوتی ریڈی نے بتایا کہ وہ ایک فوجی پائیلٹ سے شادی کی تھی مگر عوامی خدمات دونوں میاں بیوی کا مقدر بن گیا ہے جس کو دونوں بخوبی انجام دے رہے ہیں اور دونوں اسمبلی حلقوں کے عوام ہی ان کے ارکان خاندان ہیں ۔ 2009 میں اسمبلی حلقوں کی از سر نو حد بندی کی وجہ سے کوداڑ اسمبلی حلقہ کا ایک بہت بڑا منڈل اسمبلی حلقہ حضور نگر میں شامل ہوگیا تھا تو اس وقت اتم کمار ریڈی حضور نگر سے مقابلہ کرتے ہوئے کامیاب ہوگئے تھے ۔ اسمبلی حلقہ کوداڑ سے کانگریس کو شکست ہوگئی تھی ۔ 2014 کے عام انتخابات میں عوام کی خواہش اور اصرار پر وہ پہلی مرتبہ اسمبلی حلقہ کوداڑ سے مقابلہ کیا اور کامیاب ہوگئی ۔ ان کے پاس ذات پات اور مذہب سے زیادہ انسانیت کی اہمیت ہے ۔ رائے دہندوں کو ان پر اور انہیں رائے دہندوں پر مکمل بھروسہ ہے ۔ پدماوتی ریڈی نے بتایا کہ وہ اپنے شوہر کے خوابوں کو پورا کرنے میں ان سے بھر پور تعاون کررہی ہیں ۔ تلنگانہ پردیش کانگریس صدارت کی باگ دوڑ سنبھالنے کے بعد اتم کمار ریڈی کافی مصروف ہوگئے ہیں جس کی وجہ سے وہ اپنے اسمبلی حلقہ کوداڑ کے ساتھ اتم کمار ریڈی کے اسمبلی حلقہ حضور نگر کا بھی پابندی سے دورہ کرتے ہوئے عوامی مسائل کو حل کرنے میں اپنی طرف سے بھی تعاون کررہی ہیں ۔ بے لوث خدمات کے باعث ہی عوام نے اپنے دلوں میں دونوں کے لیے جگہ بنائی ہے ۔ جس کی وجہ سے عوام کے ساتھ ان کا رشتہ اٹوٹ بن گیا ہے ۔ جس کو کوئی بھی طاقت توڑ نہیں سکتی ۔ کرن کمار ریڈی کے دور حکومت بحیثیت وزیر اتم کمار ریڈی نے اپنے اسمبلی میں مکانات ، سڑکوں کی تعمیرات ، آبپاشی پراجکٹس اور کنال کی تعمیرات کے لیے جو خدمات انجام دی ہے وہ ناقابل فراموش ہے ۔ علحدہ تلنگانہ ریاست کی تحریک میں اتم کمار ریڈی نے کافی اہم رول ادا کیا ۔ راج شیکھر ریڈی نے ابھی جی او 610 کمیٹی کا صدر نشین نامزد کیا تھا ۔ پدماوتی ریڈی نے کہا کہ علحدہ تلنگانہ ریاست سونیا گاندھی نے تشکیل دی ہے لیکن جھوٹے وعدے کرتے ہوئے کے سی آر چیف منسٹر بن گئے ۔ ٹی آر ایس کا 4 سالہ دور حکومت مایوس کن ہے ۔ آبادی کا نصف فیصد حصہ ہونے والی خواتین کو تلنگانہ کابینہ میں یکسر نظر انداز کرتے ہوئے ان کی توہین کی گئی ۔ مسلمانوں کے ساتھ تو ہمیشہ مذاق کیا گیا ہے ۔ اقتدار حاصل ہوتے ہی اندرون 4 ماہ مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا چیف منسٹر کے سی آر نے وعدہ کیا تھا ۔ اقتدار کے 4 سال مکمل ہونے کے باوجود مسلمانوں سے کیا گیا وعدہ پورا نہیں کیا گیا ۔ ہر سال اقلیتی بجٹ میں اضافہ کیا جارہا ہے ۔ مگر کسی بھی سال مکمل بجٹ خرچ نہیں کیا گیا ۔ فلاحی اسکیمات کا اعلان کیا جارہا ہے ۔ مگر فنڈز کی عدم اجرائی سے اسکیمات پر عمل آوری نہیں ہورہی ہے ۔ ٹی آر ایس حکومت کی کارکردگی سے ریاست کے عوام مطمئن نہیں ہے ۔ اب عوام 15 سال تک ہندوستان کے سرحدوں کی حفاظت کرنے والے پائیلٹ بہتر ہے یا 1980 کے دور کا بدنام شخص بہتر ہے ۔ اس کا جائزہ لے رہے ہیں ۔ تحریک کے دوران کے سی آر علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد ایس سی قائد کو چیف منسٹر بناکر خود واچ ڈاک کی طرح کام کرنے کا اعلان کیا اور اپنا بیٹا و بیٹی امریکہ میں رہنے کا دعویٰ کرتے ہوئے سماج کے تمام طبقات کو حکومت کا حصہ بنانے کا وعدہ کیا تھا ۔ علحدہ تلنگانہ ریاست تشکیل پاتے ہی کے سی آر چیف منسٹر بن گئے ان کی دختر رکن پارلیمنٹ اور فرزند وزیر بن گئے ہیں ۔ پدماوتی ریڈی نے کہا کہ تلنگانہ گولڈن ریاست میں تبدیل نہیں ہوا مگر کے سی آر کا خاندان ضرور گولڈن بن گیا ہے ۔ چیف منسٹر کی جانب سے 100 اسمبلی حلقوں پر کامیابی حاصل کرنے کے دعویٰ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اگر ٹی آر ایس کو 100 اسمبلی حلقوں پر کامیابی حاصل ہورہی ہے تو کانگریس 101 اسمبلی حلقوں پر کامیاب ہوگی ۔ کانگریس میں اتم کمار ریڈی کے خلاف مہم چلنے کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ کانگریس ایک قومی جماعت ہے جس میں اظہار خیال کی مکمل آزادی ہے ۔ اضلاع کی تنظیم جدید کی گئی ہے مگر اضلاع میں اسٹاف کی قلت ہے ۔ طلبہ کو فیس ری ایمبرسمنٹ اور بیروزگار نوجوانوں کو روزگار سے محروم رکھا گیا ہے ۔۔کانگریس کی رکن اسمبلی پدماوتی ریڈی نے کہا کہ 2014 کے بعد ملک کے حالت پوری طرح تبدیل ہوگئے ۔ دستور ہند پر خطرے کے بادل منڈ لا رہے ہیں ۔ اقلیتوں اور دلت طبقات پر حملے کئے جارہے ہیں ۔ نریندر مودی کے وزیراعظم بننے کے بعد فرقہ پرست طاقتوں کے ناپاک عزائم بلند ہوگئے ہیں ۔ گائے کے نام پر انسانوں کی جان لی جارہی ہے ۔ کھانے پینے پر امتناع اور اظہار خیال پر پابندی لگائی جارہی ہے ۔ بین مذہبی شادیوں کو جرم تصور کیا جارہا ہے ۔ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی پر عمل آوری کرتے ہوئے ملک کی معیشت کو تباہ و برباد کردیا گیا ۔ ہر سال دو کروڑ ملازمتیں فراہم کرنے کا وعدہ کرنے والے وزیراعظم پکوڑے تلنے کو ملازمت قرار دے رہے ہیں ۔ بی جے پی کے زیر قیادت این ڈی اے حکومت کے 4 سال مکمل ہوچکے ہیں ۔ مگر ابھی تک کسی بھی شہری کے بینک اکاونٹ میں 15 لاکھ روپئے جمع نہیں ہوئے ۔ قومی سطح پر اچھے دن صرف فرقہ پرست تنظیموں کے آئے ہیں ۔ تلنگانہ میں جس طرح کے سی آر فیملی کے آئے ہیں ۔ مرکز کی مخالف دشمن پالیسیوں کی ٹی آر ایس مکمل تائید کررہی ہے ۔ تقسیم ریاست بل کے وعدوں پر عمل آوری کے لیے مرکز میں دباؤ بنانے کے بجائے بی جے پی کی بی ٹیم بن کر ٹی آر ایس کام کررہی ہے ۔ جمہوریت کو ختم کرنے کی منظم سازش رچی جارہی ہے ۔ امبیڈکر کے تیار کردہ دستور کو ہندوتوا طاقتوں سے خطرہ ہوگیا ہے ۔ نریندر مودی کا ہٹلر کے دور کی یاد کو تازہ کررہا ہے جس میں یہودی متاثر ہوئے تھے ، یہاں مسلمان اور دلت ہورہے ہیں ۔ بی جے پی کے دور حکومت میں قومی سطح پر اڈانی اور امبانی گولڈن بن گئے ۔۔آئندہ انتخابات میں ریاست اور مرکز میں کانگریس پارٹی کی حکومتیں قائم ہوں گی جہاں سماج کے تمام طبقات کے ساتھ انصاف ہوگا ۔ بالخصوص اقلیتوں کی ترقی و بہبود کے لیے خصوصی فلاحی اسکیمات متعارف کرائی جائے گی ۔ مسلم بیروزگار نوجوانوں کو خود روزگار فراہم کرنے کے لیے اقلیتی بجٹ میں زبردست اضافہ کیا جائے گا ۔ بینکوں کے تعاون کے بغیر اقلیتی مالیاتی کارپوریشن سے بڑے پیمانے کی سبسیڈی کے ساتھ راست قرضے فراہم کئے جائیں گے ۔ انڈسٹری کے قیام کے لیے اسپیشل اکنامک زون قائم کیا جائے گا ۔ مسلمانوں کی تعلیم پر خصوصی توجہ دی جائے گی ۔ وقف جائیدادوں کو منشائے وقف کے تحت ترقی دیتے ہوئے ان کی مکمل حفاظت کی جائے گی ۔ حکومت میں اقلیتوں کو برابر کا حصہ دار بنایا جائے گا ۔۔